تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 193

سُوْرَۃُ الْـحِجْرِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الحجر یہ سورۃمکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃُ اٰیَۃٍ وَّسِتَّۃُ رَکُوْعَاتٍ اوربسم اللہ سمیت اس کی ایک سو آیات ہیں ـ۔اورچھ رکوع ہیں یہ سورہ مکی ہے بحرِ محیط میں ہے۔ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ مَکِّیَّۃٌ بِلَاخلَافٍ۔خدا کی قدرت ہے کہ اس سورۃ میں بہت سے مسائل ایسے ہیں۔جن کی شان ہی اس سورۃ کے مکی ہونے سے بڑھتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ایساتصرّف کیا کہ اسے مَکِّیَّةٌ بِلَاخِلَافٍ قرار دلوادیا۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے۔کہ اس میں بتایاگیاتھاکہ پہلے انبیاء بھی بغیر ظاہری سامانوں کے خدا تعالیٰ کے کلام کی مد د سے فتح پاتے رہے ہیں اب بھی اس طرح ہوگا۔اب اس سورۃ میں بھی کلام الٰہی کی طاقت پر بحث کی گئی ہے۔اوربتایاگیاہے کہ کلام الٰہی ایسی زبردست طاقت ہے۔جس کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتااورجھوٹاکلام بناناآسان کام نہیں۔خدا تعالیٰ پرافتراکرنے والابچ نہیں سکتا۔پس یہ کلام سچا ہے اوراپناثبوت اپنے ساتھ لایا ہے۔سورۃ کے مضامین کا خلاصہ اس سورۃ کے مضامین کاخلاصہ یہ ہے کہ یہ ایساکلام ہے کہ اپنامشابہ آپ ہے۔یہاں تک کہ ایسے بہت سے مواقع پیش آتے ہیںاور آئیں گے۔کہ اس کی خوبیوں کو دیکھ کر دشمن بھی دل میں حسرت کرتے ہیں۔اورکریں گے کہ ایسا کلا م ان کے پاس کیوں نہ ہوا۔مگر اپنی خود غرضیوں کی وجہ سے اس کی طرف قدم نہیں اٹھاسکتے۔اورسمجھتے نہیں کہ اس قسم کی سستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صداقت سے محروم رہ جاتا ہے اورعذاب میں مبتلاہوجاتا ہے۔آخر جب ہم نے ایک کلام اتاراہے تویہ توہونہیں سکتا کہ وہ مٹ جائے۔وہ قائم رہے گا اوررکھاجائے گا۔پس جو اسے قبول کرنے میں سستی کریں گے وہ اپنانقصان خود کریں گے۔پہلے نبیوں کے کلام سے بھی تمسخر ہوا۔مگرلوگ یہ نہیں خیال کرتے کہ خدا تعالیٰ پر افتراکرنامعمولی بات نہیں۔خداخود اس امر کی حفاظت کرتا ہے کہ اس پر افترانہ کیاجائے۔اور سچے کلام کو خاص امتیازعطافرماتا ہے۔اس کی قبولیت کے سامان پیداکردیتا ہے اور جو اسے قبول کرتے ہیں۔انہیں ادنیٰ حالت سے اٹھاکر کمال تک پہنچادیتا ہے۔پس جس طرح پہلے انبیاء کے کلام ہی خزانے تھے جن کے ذریعہ سے دنیافتح ہوئی۔اسی طرح اب بھی