تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 175

یاد رکھنا چاہیے کہ حروف زائدہ سے مراد لغو اور بے کار اور زائد حروف نہیں بلکہ ان سے مراد معنوں میں زیادتی کرنے والے حروف ہیں اور اسی وجہ سے ان کے معنے تاکید کے ہوتے ہیں۔وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۔ظاہری پھلوں کے علاوہ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی عبادات اور ان کی قربانیاں ضائع نہ ہوں بلکہ ان کے اعلیٰ نتائج نکلتے رہیں۔حضرت ابراہیم کی یہ دعا حضرت نبی کریم ؐ کے وجود میں پوری ہوئی میرے نزدیک یہ دعا آنحضرت صلعم کے لئے ہے۔آپؐ سے پہلےتَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ کا مفہوم کب پورا ہوا۔آپؐ سے پہلے صرف عرب لوگ ہی مکہ جاتے تھے۔مگر اب آنحضرت صلعم کے بعد تمام جہان کے لوگ وہاں دوڑے چلے جاتے ہیں۔پس میرے نزدیک اس دعا میں ایسے رسول کی دعا کی گئی تھی جو سب دنیا کی طرف مبعوث ہو اور جس کی آواز کو سن کر سب دنیا کے لوگ مکہ میں حج کے لئے جمع ہوں اور مکہ کو توحید کا مرکز بنا کر شرک اور مشرکوں سے پاک کر دیا جائے۔حضرت ابراہیم کے خواب کی تعبیر میرے نزدیک حضرت ابراہیمؑ نے جو یہ خواب میں دیکھا تھا کہ وہ حضرت اسمٰعیل ؑ کو ذبح کررہے ہیں اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ انہیں ایک دن ایک غیرذی زرع وادی میں چھوڑ جائیں گے۔ایسی جگہ پر چھوڑنا ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح ہی کرنا تھا۔حضرت ابراہیم نے زمانہ کے رواج کے مطابق اس کی تعبیر غلط سمجھی تھی۔کیونکہ اس زمانہ میں لوگ انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔انہوں نے یہی سمجھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑ کو ذبح کر دیا جائے لیکن دراصل اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ ان کو ایک غیرذی زرع وادی میں چھوڑیں گے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فوراً ہی خواب کی تعبیر نہ سمجھائی کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انسانی قربانی کا منسوخ قرار دینے والا بنائے۔چنانچہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی خواب کو لفظاً لفظاً پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو اس نے انہیں بتا دیا کہ تمہارا اخلاص بھی ظاہر ہو گیا اور یہ حکم بھی قائم ہو گیا کہ آئندہ انسان کو بغیر جنگ یا بغیر قصاص کے قتل نہ کیا جائے گا۔آئندہ انسانی قربانی بامعنی ہو گی۔یعنی انسان اپنے وقت، اپنے علم، اپنے مال کو قربان کرکے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے گا نہ کہ اپنے گوشت کو قربان کرکے۔پس تم ظاہر میں ردبلا کے طور پر بکرے کی قربانی کردو۔اور حقیقت میں اپنے بچہ کی ایک تلخ قربانی کے لئے تیار ہو جاؤ جو آئندہ پیش آنے والی ہے۔