تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 174
کہ تیری مقدس عبادت گاہ کی خدمت اور آبادی کے لئے میں نے اپنی اولاد کو یہاں چھوڑا ہے اور اس نیت سے یہاں چھوڑا ہے کہ وہ تیرے ذکر کو بلند کریں اور یہ جانتے ہوئے چھوڑا ہے کہ اس جگہ دنیوی آرام کا کوئی سامان نہ موجود ہے نہ ہوسکتا ہے۔پس اب میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ ایک تو جس مقصد کے لئے میں نے ان کو یہاں رکھا ہے وہ پورا ہو۔لوگ ان کی طرف توجہ کریں اور ان کی تبلیغ اور ان کے وعظ میں اثر ہو اور یہ تیری عبادت قائم کرنے میں کامیاب ہوں۔دوسرے ان کی جسمانی حالت کی درستی کا بھی خیال رکھ۔اور باوجود اس کے کہ انہیں میں ایسے علاقہ میں چھوڑ رہا ہوں کہ گھاس کی پتی بھی وہاں نظر نہیں آتی تو اعلیٰ سے اعلیٰ پھل بھی ان تک پہنچا۔تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ جو خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے دنیا میں بھی ضائع نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم کی دعا کا اثر اس دعا کا اثر دیکھو کتنا وسیع ہوا ہے۔آج سب دنیا مکہ والے کے نام پر قربان ہے اور دل آپ ہی آپ اس کی تعلیم کی طرف جھکے جارہے ہیں اور اب تو مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے اور بھی ترقی کے سامان پیدا ہورہے ہیں۔یہ تو دینی حصہ کی دعا کا حال ہے۔باقی رہا دنیوی حصہ۔سو وہ عجیب طرح پورا ہورہا ہے۔اس بے آب و گیاہ علاقہ میں ہر قسم کے اور عمدہ سے عمدہ پھل میسر ہیں۔میں نے ایسے اچھے انگور اور انار مکہ میں کھائے ہیں کہ نہ ہندوستان میں نہ شام میں نہ اٹلی اور فرانس میں ویسے نظر آئے۔دنیا بھرکا پھل وہاں جاتا اور ابراہیمی دعا کی قبولیت کا ثبوت دیتا ہے۔اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ میں من بعضیہ نہیں بلکہ زائدہ ہے اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ کے متعلق بعض علماء نے کہا ہے کہ اس میں من بعضیہ ہے یعنی کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف متوجہ ہوں۔مگر یہ درست نہیں۔دعا کرنے والا کبھی تھوڑی چیز نہیں مانگتا۔پس یہاں من بعضیہ نہیں بلکہ زائدہ ہے۔حروف زائدہ معنوں میں زور پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں حروف زائدہ تاکید کے لئے آتے ہیں یعنی وہ معنوں میں زور پیدا کر دیتے ہیں یعنی جومفہوم بغیر حروف زائدہ کے پیدا ہوتا تھا اس میں ان کے ذریعہ سے قوت اور طاقت پیدا کر دی جاتی ہے۔چنانچہ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ میں سے مِنْ کو اڑا دیا جائے تو اَفْئِدَۃُ النَّاسِ رہ جائے گا اور اس کے معنے ’’لوگوں کے دل‘‘ کے ہوں گے۔چونکہ ال خصوصیت اور کمال کے لئے بھی آتا ہے اور یہی اس جگہ مراد ہے۔پس اس جملہ کے معنے ہوئے۔’’ کامل اور خاص لوگوں کے دل‘‘ مِنْ نے داخل ہوکر ان معنوں میں اور زور پیدا کر دیا اور مراد یہ ہوئی کہ مکہ والوں کی طرف جھکنے والے دل نہایت پاک اور نہایت کامل لوگوں کے دل ہوں۔