تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 176

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا يَخْفٰى عَلَى اے ہمارے رب جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں تو یقیناً (سب) جانتا ہے اور اللہ (تعالیٰ) سے اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ۰۰۳۹ کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہ سکتی ہے اور نہ آسمان میں تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسمعیل ؑ کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے جنگل میں چھوڑا اس آیت میں بتایا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ فعل نہایت نیک نیت کی بناء پر تھا۔ضمناً اس میں بائبل کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔بائبل میں ہے کہ حضرت سارہؓ ناراض ہوگئی تھیں۔اس لئے ان کو خوش کرنے کے لئے حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسمٰعیلؑ اور ان کی والدہ کو جنگل میں چھوڑا تھا(پیدائش باب ۲۱ آیت ۸ تا ۱۲)۔یعنی ایک نبی نے اپنی ایک بیوی کی رضامندی کے لئے بعض بے گناہوں پر ظلم کیا۔قرآن کریم اس امر کا جو حضرت ابراہیم کے نام پر دھبہ ہے خود حضرت ابراہیم کے منہ سے دفعیہ کرواتا ہے اور ان کی مذکورہ بالا دعا نقل کرکے بتاتا ہے کہ یہ بیان بائبل کا غلط اور بے بنیاد ہے۔اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے رب! تو تو جانتا ہے کہ میری نیت ان کو جنگل میں چھوڑنے سے کیا ہے؟ میں ایسا کسی دنیوی غرض کی وجہ سے نہیں کررہا۔بلکہ محض تیری خوشنودی کے حصول کے لئے اپنے بیوی بچوں کو اس جنگل میں چھوڑے جارہا ہوں۔مَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ میں مِنْ کا جو لفظ آیا ہے اس کا مفہوم اس جگہ ’’بھی‘‘ کے لفظ سے ملتا ہے۔یعنی کوئی چیز بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس فقرہ کو اس لئے دوہرایا ہے کہ جس طرح ابراہیمؑ نے فرمایا تھا کہ اے اللہ! تو میری نیت کو خوب جانتا ہے اسی طرح اللہ نے بھی ان کے قول کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ مَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ۔بے شک ہم بھی اس کی نیت سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کا یہ فعل بیوی کی رضا حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہماری رضا حاصل کرنے کے لئے تھا۔