تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 155
بھی دلالت کرتا ہے۔یہ امر بھی قرآن کریم میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔قرآن کریم کی اخلاقی تعلیم ایسی اعلیٰ ہے اور درخت کی شاخ کی طرح اس طرح ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف گئی ہے کہ کسی اور کتا ب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔بعض کی اخلاقی تعلیم نہایت ادنیٰ ہے جس طرح زمین پر گری ہوئی شاخ۔اور بعض کی اعلیٰ تو ہے لیکن اس کا جڑھ سے تعلق نہیں۔وہ ایسی ہے جیسے کسی تاگا سے کسی شاخ کو بلندی میں لٹکا دیں۔وہ بلند تو ہو جائے گی لیکن اس پر کوئی چڑھ نہیں سکے گا۔لیکن قرآن کریم کی اخلاقی تعلیم ایسی ہے جس پر ہر طبقہ کا آدمی عمل کرسکتا ہے۔ادنیٰ آدمی جڑھ سے چڑھ کر اوپر جاسکتا ہے اور اوپر پہنچا ہوا آدمی اس کے اوپر اور ترقی کرسکتا ہے۔اس کی اس خوبی پر بعض لوگ معترض ہوتے ہیں۔مثلاً سزا کی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح ادنیٰ اخلاق سکھائے گئے ہیں۔حالانکہ نہیں دیکھتے کہ ادنیٰ اخلاق والے انسانوں کی اصلاح اس کے بغیر نہیں ہوسکتی۔کچھ لوگ سزا سے مانتے ہیں، کچھ عفو سے، پھر کچھ عدل کے مقام پر ہوتے ہیں، کچھ احسان کے اور کچھ ایتاء ذی القربیٰ کے۔جو مذہب ان امور کو اپنی تعلیم میں شامل نہیں کرتا وہ لوگوں کو یا اعلیٰ اخلاق سے محروم کر دیتا ہے یا انسانوں میں سے ایک حصہ کو نجات سے محروم کر دیتا ہے۔غرض اس خصوصیت میں بھی قرآن کریم ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم اس قدر مطالب پر حاوی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے تیسری خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ کے ماتحت یہ ہے کہ اس کی شاخیں بہت ہوں۔کیونکہ جس درخت کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں گی وہ نہ صرف اونچی ہوں گی بلکہ بہت کثرت سے بھی ہوں گی۔(یاد رہے کہ اِلَی السَّمَآءِ نہیں فرمایا فِي السَّمَآءِ فرمایا ہے جس سے بلندی کے علاوہ پھیلاؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے) اس خصوصیت میں بھی قرآن کریم کو ایک ممتاز درجہ حاصل ہے۔اس کی تعلیم اس قدر مطالب پر حاوی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک مختصر سی کتاب ہے۔اناجیل سے بھی چھوٹی۔لیکن اس کے اندر اس قدر مطالب پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس سے ہزاروں گنے زیادہ حجم کی کتب میں وہ مضامین نہیں ملتے۔عبادات ہیں تو ان کی ہر شاخ اس میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔معاملات ہیں تو ان کی ہر شاخ اس میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔علم الاخلاق، تمدن، سیاست، اقتصادیات، پیشگوئیاں، الٰہیات، قضاء، تصوف،علم المعاد، علم کلام اور ان سب علوم کے فلسفے اور تفصیلات قرآن کریم میں موجود ہیں۔اور ایسے کامل طور پر موجود ہیں کہ اس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔(اس کے لئے دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی اور آئینہ کمالات اسلام اور میری کتاب احمدیت یعنی حقیقی اسلام وغیرہ)