تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 154

دوسرے درختوں سے۔گویا دوسری الہامی کتب خواہ وہ قرآن کریم کی طرح شاندار نہ ہوں اس امر میں ایک حد تک اس سے مشابہ ہوں گی لیکن انسانی کلام نہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سےہے۔انسانی ہاتھ کا اس میں دخل نہیں۔اس نے آہستہ آہستہ نشوونما حاصل نہیں کیا۔بلکہ یکدم ایک ہی شخص کے دل پر اسے نازل کیا گیا ہے۔وہ زمانہ کی رو کی ترجمانی نہیں کرتی کہ اسے صدیوں کے فلسفہ کا خلاصہ کہا جائے۔جیسا کہ اچھی انسانی کتب کا حال ہے بلکہ وہ اکثر امور میںزمانہ کی رو کا مقابلہ کرتی اور ان کے خلاف چلتی ہے۔اور اپنے لئے ایک بالکل نیا راستہ بناتی ہے۔جس سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنی غذا ایک ہی جگہ سے لیتی ہے اور درخت سے مشابہ ہے۔برخلاف انسانی کتب کے کہ وہ حیوان کے مشابہ ہوتی ہیں۔اور انتخاب اور استفادہ اور تجسس پر ان کی بنیاد ہوتی ہے۔اور گو مصنف ایک نظر آتا ہے لیکن اس کا علم ماخوذ ہوتا ہے۔ہزاروں انسانوں کے تجربہ سے۔سوائے ان لوگوں کے کہ جو قرآن کریم پر اپنی تصنیفات کی بنیاد رکھتے ہیں۔ان لوگوں کی تصنیفات قرآن کریم کا عکس ہیں۔اس سے جدا نہیں۔تیسری علامت شَجَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ کی یہ بیان فرمائی تھی کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔آسمان میں شاخیں پھیلنے کے سات معنے میں نے اوپر بیان کئے ہیں اور ان معانی کے رو سے بھی قرآن کریم ایک ممتاز کتاب نظر آتی ہے۔اس کے اس امتیاز میں کوئی اس کا شریک نظر نہیں آتا۔قرآنی تعلیم پر عمل کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہو جاتا ہے پہلی خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ کی میں نے یہ بتائی تھی کہ اس پر چڑھ کر انسان آسمان تک پہنچ سکے گا۔یہ خصوصیت قرآن کریم میں واضح طور پر پائی جاتی ہے۔بلکہ اس میں اس کے ساتھ کوئی اور کتاب شریک ہی نہیں۔کیونکہ کوئی کتاب اس کی دعویٰ دار نہیں کہ اس پر عمل کرکے انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔لیکن قرآن کریم اس کا مدعی ہے کہ اس کی تعلیم پر عمل کرکے انسان آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔یعنی قرب الٰہی اسے حاصل ہو جاتا ہے۔اور وہ آسمانی امور کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے عاملین میں سے ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو اس امر کے مدعی تھے کہ قرآن کریم کے ذریعہ سے انہیں روحانی صعود حاصل ہوا۔یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ تک جا پہنچے۔اور اس کے خاص فضلوں کو انہوں نے حاصل کیا۔قرآن کریم کی اخلاقی تعلیم ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے ہے دوسری خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ کلام الٰہی کی تعلیم اعلیٰ اخلاق پر مشتمل ہوتی ہے۔کیونکہ اونچا درخت بلند خیالی اور وسعت اخلاق پر