تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 156

ہر فطرت کے انسان کے لئے قرآن کریم میں تسلی کا سامان ہے چوتھی خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ کے ماتحت یہ ہے کہ اس کا سایہ وسیع ہو۔کیونکہ جس درخت کی شاخیں بلند اور پھیلی ہوئی ہوں اس کا سایہ بھی بہت وسیع ہوتا ہے۔پس کلمہ طیبہ وہ ہے جس کے سایہ میں بہت سے آدمی بیٹھ سکیں۔یعنی وہ ہر فطرت کے انسانوں کے لئے تسلی دینے کا موجب ہو۔یعنی جس طرح اخلاق کے ہر درجہ کے لوگوں کو بلندی کی طرف پہنچائے۔اسی طرح ہر فطرت کے انسان کے لئے بھی اس میں تسلی کا سامان موجود ہو۔قرآن کریم میں یہ صفت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔انسانی مزاج مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔کوئی انسان کسی طاقت اور میلان کو لے کر آتا ہے کوئی کسی طاقت اور میلان کو۔کامل کتاب میں سب کے لئے آرام کا سامان موجود ہونا چاہیے اور قرآن کریم میں ایسا ہی ہے۔کسی طبعی تقاضے کو ضائع نہیں کیا گیا۔کچلا نہیں گیا۔باقی تمام مذاہب میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بشریت کے تقاضوں کو گناہ قرار دے کر ان کے کچلنے پر سارا زور لگایا گیا ہے۔قرآن کریم بشری تقاضوں کو انسانی تکمیل کے ذرائع قرار دے کر ان کی اصلاح پر زور دیتا ہے لیکن قرآن کریم نے بشریت کے تقاضوں کو انسانی تکمیل کے ذرائع قرا دے کر ان کی اصلاح پر زور دیا ہے۔جس طرح گاڑی چلانے کے لئے نہ جانور کو ذبح کرنے والا کامیاب ہوسکتا ہے نہ اسے آزاد چھوڑ دینے والا۔بلکہ وہی کامیاب ہوسکتا ہے جو بیلوں اور گھوڑوں کو سدھا کر اس کے آگے جوتے۔قرآن کریم بھی بشری تقاضوں کو سدھا کر ہر فطرت کے انسان کے لئے آرام کا سامان پیدا کرتا ہے۔وہ نرم مزاج انسان کو نرمی سے روکتا نہیں نہ سخت مزاج کو سختی سے۔بلکہ انہیں اپنے طبعی تقاضے کے صحیح موقع پر استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وہ نہ تو کھانے کو گناہ قرار دیتا ہے نہ پہننے کو نہ شادی کو نہ مال و دولت کمانے کو نہ مکان بنانے کو بلکہ ہر امر میں اقتصاد اور مناسب حدود کو قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔اس وجہ سے ہر فطرۃ کی اصلاح اس کے ذریعہ سے ہو جاتی ہے۔اور کوئی شخص نہیں جو اس کے سایہ میں بیٹھ نہ سکے۔چوتھی علامت شَجَرَۃٌ طَیِّبَۃٌکی یہ بتائی گئی تھی کہ وہ ہر آن اپنے پھل دیتا ہے۔اس علامت کے ماتحت کلام الٰہی کی ایک تو یہ خصوصیت معلوم ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ پھل دیتا رہے یعنی اس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اس کی اعلیٰ تعلیم کے مظہر ہوں۔اس لئے تُؤْتِي الْاُكُلْ نہیں فرمایا بلکہ اُکُلُھَا فرمایا۔یعنی درخت کی طرف ضمیر پھیر کر اس کی خوبیوں کی طرف اشارہ کیا۔کہ وہ پھل اپنے اندر درخت والی خوبیاں رکھتے ہوں۔جو خواص اس درخت میں ہوں وہی ان پھلوں میں ہوں۔وہ طیب بھی ہوں وہ مضبوط جڑھ پیدا کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہوں۔اور