تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 152
یا سب کو چھوڑے گا یا سب کو اختیار کرے گا۔ورنہ کوئی فائدہ نہ اٹھائے گا۔چنانچہ اس وقت مسلمان بعض قرآن پر عمل کررہے ہیں اور بعض کو چھوڑ رہے ہیں۔لیکن اس سے انہیں فائدہ کوئی نہیں پہنچ رہا۔بلکہ غیرمسلم ان سے زیادہ ترقی کررہے ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ قرآن کریم دب کر نہیں رہنا چاہتا۔جو اسے دبانے کی کوشش کرے وہ نقصان اٹھائے گا۔ہاں! اسے بالکل چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیارکرلے۔گویا قرآن کریم کی جڑھ کو اپنے دل سے اکھاڑ پھینکے تو پھر بے شک وہ دنیوی طور پر ترقی کرسکے گا۔اسی طرح یہ امر بھی ثابت ہے کہ قرآن کریم تبدیلی زمانہ سے متاثر نہیں ہوتا۔کوئی علم نکلے کوئی ایجاد ہو اس کی تعلیم پر کوئی حملہ نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم کے اصول پختہ اور غیر متبدل ہیں تیسری خصوصیت مضبوط جڑھ والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی جگہ کو چھوڑتا نہیں۔یہ معنے بھی قرآن کریم میں بدرجہ اعلیٰ پائے جاتے ہیں۔قرآن کریم کے اصول ایسے پختہ ہیں کہ وہ کبھی بدلتے نہیں۔یہ نہیں کہ تعلیم کا ایک حصہ اور اصول پر مبنی ہو اور دوسرا حصہ دوسرے اصول پر۔جیسے انجیل میں توحید اور تثلیث یا کفارہ اور رحم متضاد اصول پر مذہب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔آریہ مذہب میں ایک طرف خدا تعالیٰ کو دیالو کرپالو کہا گیا ہے تو دوسری طرف روح اور مادہ کو انادی۔حالانکہ یہ دونوں تعلیمیں متضاد اصول پر قائم ہیں۔لیکن قرآن کریم کی سب تعلیم مقررہ اصول پر قائم ہے۔توحید ہے تو اس کے باریک سے باریک احکام اسی کے گرد چکر کھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو رحمٰن اور رحیم قرار دیا گیا ہے تو تمام تفصیلی تعلیمات ان صفات کے تابع ہیں۔یہ نہیں کہ توحید کی تعلیم دی ہو اور تفصیلات شرک پر مبنی ہوں۔رحیم قرار دیا ہو اور جزئیات عدم رحم پر دلالت کرتی ہوں۔قرآنی تعلیم تا قیامت قابل عمل رہےگی چوتھی خصوصیت مضبوط جڑھ کے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو۔جس قدر جڑھیں مضبوط ہوں درخت لمبی عمر پاتا ہے۔قرآن کریم پر تیرہ سو سال گزر چکے ہیں۔اب تک اس کی تعلیم قابل عمل ہے اور قابل عمل رہے گی۔جو کتب خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتیں وہ آج لکھی جاتی ہیں۔اور کل ان کے خلاف انہی کے ماننے والے کہنے لگتے ہیں اور اس پر سے عمل اٹھ جاتا ہے لیکن قرآن کریم پر برابر عمل ہورہا ہے۔بلکہ جو لوگ اسے چھوڑ رہے تھے اب پھر اس کی تعلیم کی طرف واپس آرہے ہیں۔یورپین تہذیب کے دلدادہ قرآن کریم کی تعلیم کی خوبی کے قائل ہو رہے ہیں یورپین تہذیب کے دل دادہ اب پھر اس کی ظاہری خوبصورتی کا تلخ تجربہ کر لینے کے بعد دوبارہ قرآن کریم کی ٹھوس تعلیم کی خوبی کے قائل ہو رہے ہیں۔سؤر کی حرمت، شرا ب کی ممانعت، کثرت ازدواج کی اجازت، طلاق، عورت اور مرد کے اختلاط میں