تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 153
حزم و احتیاط، ورثہ وغیرہ بیسیوں امور ہیں کہ جن میں قرآنی اصول کی برتری کو دنیا پھر تسلیم کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔اور اس طرح قرآن کی عمر جو ہمارے نزدیک تو تاقیامت ہے دشمنوں کے نزدیک بھی لمبی ہوتی نظر آتی ہے۔پانچویں خصوصیت مضبوط جڑھوں والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ وہ اچھی مٹی میں اگتا ہے۔یعنی ایسا درخت کبھی معمولی زمین میں نہیں اگ سکتا۔کیونکہ جب تک جڑھوں کے پھیلنے کے لئے عمدہ مٹی دور تک نہ ملتی ہو جڑھیں دور تک پھیل نہیں سکتیں۔اسی طرح کلام الٰہی بھی اپنے حسن کو تبھی ظاہر کرسکتا ہے جب ایسی قوم اس کی حامل ہو۔جو اس سے مناسبت رکھتی ہو۔اور اسے اپنے دلوں میں جگہ دینے کو تیار ہو۔اسی کی طرف قرآن کریم میں یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے کہ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ (الفاطر :۱۱) عمل صالح ایمان کو ترقی دیتا ہے۔یعنی درخت تو ایمان ہے لیکن وہ عمل صالح کے بغیر بڑھتا نہیں۔پس گو کلام الٰہی کیسا اعلیٰ ہو جب تک اس کے ساتھ عمل شامل نہ ہو اس کی خوبی ظاہر نہیں ہوتی۔پس ضروری ہے کہ کلام الٰہی ایسے دلوں میں جگہ پکڑلے جو اس کی تعلیم کے نشوونما کے لئے موزوں ہوں اور جن میں دور دور تک اس کی جڑھیں پھیل سکیں۔جب تک یہ بات کسی کلام کو میسر نہ ہو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔قرآن کریم کو یہ بات بدرجہ اتم حاصل ہے۔جب یہ ظاہر ہوا تب بھی ایک ایسی جماعت اسے میسر ہوئی جنہوں نے اس کا درخت اپنے دلوں میں لگایا۔اور اپنے خون سے اس کی آبیاری کی اور اس کے بعد سے لے کر آج تک یہ بات اسے میسر ہے۔وید، تورات، انجیل، سب کتب پر ایک وقت میں لوگ عمل کرتے تھے مگر آج ان پر عمل کرنے والے تلاش کرنے سے بھی شاید ہی ملیں۔قرآن کریم پر عمل کرنے والے لوگ ہر زمانہ میں ملتے رہے ہیں لیکن قرآن کریم پر عمل کرنے والے لوگ ہر زمانہ میں ملتے رہے ہیں۔اور جب بھی ان لوگوں میں کمی آتی رہی ہے اللہ تعالیٰ اور لوگ پیدا کر دیتا رہا ہے جو اس پر عمل کرنے والے تھے اور اس طرح اس کی جڑھیں مضبوطی سے گڑی رہی ہیں اور اس کا حسن ہمیشہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہا ہے۔باقی کتب میں اگر حسن بھی ہے تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی درخت کے حسن کو اس کا بیج ہتھیلی پر رکھ کر بیان کیا جائے اور قرآن کریم کا حسن اس کے خوبصورت درخت سے جو ہر وقت اگا ہوا ہے دکھایا جاسکتاہے اور قیاس سے حسن معلوم کرنا اور آنکھوں سے دیکھ کر معلوم کرنا برابر نہیں ہوسکتا۔انسانی کتب کے بالمقابل قرآن کریم کی تعلیم سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے چھٹی خصوصیت مضبوط جڑھوں والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ اس کا منبع ایک ہوتا ہے۔یعنی وہ حیوان کی طرح مختلف جگہ سے غذا نہیں لیتا۔اس خصوصیت میں بے شک کمزور درخت بھی شامل ہے لیکن یہ مقابلہ حیوانات سے ہے۔نہ کہ