تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 151
بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں۔قرآن مجید کے زندہ کتاب ہونے سے اس کے نئے نئے مطالب نکلتے رہتے ہیں اول قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے یعنی جس طرح زندہ درخت جس کی جڑھیں زمین میں پھیل کر ہر وقت غذا لے رہی ہوتی ہیں تازہ رہتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی تازگی قائم ہے۔اور ہر وقت تازہ معانی اس سے ملتے ہیں۔تیرہ سو سال سے لوگ اس کی تفاسیر لکھتے چلے آئے ہیں اور بعض نے تو سو سو جلدوں کی تفسیریں لکھی ہیں مگر باوجود اس کے اس کے مطالب ختم نہیں ہوئے۔اب بھی اس میں سے نئے مطالب نکل رہے ہیں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نلکی ہے جس کے ایک طرف بیٹھا ہوا کوئی شخص دوسری طرف خزانہ لڑھکا رہا ہے۔کتنا ہی غور کرو کوئی سا سوال کرو۔نئے مطالب کھلتے جاتے ہیں اور ہر سوال کا جواب ملتا جاتا ہے۔قرآن کریم خود فرماتا ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۔ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس وجہ سے ہم جانتے ہیں کہ اس کے دل میں سے کیا کیا شبہات پیدا ہوتے ہیں۔اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔(قٓ :۱۷) الٰہی کلام جب تک دنیا کے لئے قابل عمل ہے ایک تازہ درخت کی طرح ہونا چاہیے۔یعنی وہ ہر وقت اپنے منبع سے غذا حاصل کررہا ہو۔جس طرح درخت بظاہر وہی نظر آتا ہے لیکن اس کے اندر تازہ رس حیات کا زمین سے آتا رہتا ہے۔اسی طرح کلام وہی رہتا ہے لیکن اس کے تازہ مطالب حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں۔اور ان کی طرف ذہن کا پھرانا اللہ تعالیٰ اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ یعنی اس کلام کو سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔(الواقعہ :۸۰) قرآن کریم میں ہر زمانہ کے اعتراضوں کا جواب موجود ہے مضبوط جڑھوں والے درخت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ صدمات سے جھکتا نہیں حوادث کا مقابلہ مضبوطی سے کرتا ہے۔کلام وہی مضبوط جڑھ والا کہلا سکتا ہے جو ہر زمانہ کے اعتراضوں کی برداشت کرسکے۔اور ان کا جواب اس کے اندر موجود ہو۔قرآن کریم میں یہ خوبی بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔اس کے اصول ایسے واضح ہیں کہ اس کے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔نہ اسے بدلانے کی کسی کو اجازت ہے۔اور نہ خود اس کے اپنے الفاظ اس کے معانی کو بدلنے کی اجازت دیتے ہیں۔اس کے اندر تبدیلی کی کوشش کرنے والا قرآن کریم کو توڑ دے گا۔مروڑ نہیں سکے گا۔جس طرح عمارت میں سے چند اینٹیں نکال لی جائیں تو وہ گر جاتی ہے اسی طرح اس کی تعلیم کو کوئی بدلنا چاہے تو وہ سب کی سب ناقص ہو جائے گی۔اسی طرح روحانی طور پر بھی ممکن نہیں کہ قرآن کریم کے بعض ٹکڑوں کو کوئی اختیار کرے اور بعض کو چھوڑ دے۔