تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 139

اَلْمُصْرِخُ: اَصْرَخَ سے اسم فاعل ہے اور اَصْرَخَ فُلَانٌ کے معنے ہیں اَغَاثَہٗ وَاَعَانَہٗ۔اس کی فریاد سنی اور اس کی مدد کی۔اور جب یہ محاورہ بولیں اِسْتَصْرَخَنِیْ فَاَصْرَخْتُہٗ تو اس کے معنے ہوں گے اِسْتَغَاثَ بِیْ فَاَغِثْتُہٗ۔کہ اس نے میری مدد چاہی۔ا س پر میں نے اس کی مدد کی۔اصرخ میں ھمزہ سبب کا بھی ہو سکتا ہے وَقِیْلَ الْھَمْزُۃُ لِلسَّلْبِ۔بعض کہتے ہیں کہ اَصْرَخَ کا ہمزہ سلب کے لئے ہے اور اَصْرَخَ کے معنی ہیں ازلت صراخہ یعنی اس کی چیخ و پکار اور فریاد کو دور کر دیا۔(اقرب ) اور چونکہ یہ مصیبت دور کرنے سے ہوتا ہے اس لئے اصرخ کے معنے مدد کرنے کے ہو گئے۔پس آیت مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ کے معنے ہوں گے نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ تم میری مدد کرسکتے ہو۔(۲) نہ میں تمہاری چیخ و پکار کو دور کر سکتا ہوں نہ تم میری چیخ و پکار کو دور کرسکتے ہو۔تفسیر۔شیطان یا شیطانی لوگوں کا عذاب کے وقت اپنی براءت ظاہر کرنا شیطان یا شیطانی لوگ عذاب کے وقت اپنے آلۂ کار سے براءت ظاہر کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ہمارا تجھ پر کیا زور تھا۔تمہارے اپنے اندر گند تھا۔اس لئے تم نے ہماری بات مانی اگر تمہارے اندر نیکی ہوتی اور تم نہ مانتے تو ہم کیا تم کو مجبور کرسکتے تھے۔اور یہ بات درست بھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان یا اس کے اظلال جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں انہیں انسان پر کوئی اختیار نہیں۔وہ تو ایک ذریعہ ہیں انسانی کمزوری کے اظہار کا۔جس طرح فرشتے ذریعہ ہیں اس کی اچھی طاقتوں کے اظہار کا۔گمراہ کرنے والا خود انسان کا نفس ہے۔فرشتے انسان کی نیکی کے معیار کو اور شیطان بدی کے معیار کو ظاہر کرتا ہے شیطان کا کام صرف اشارہ کرنا ہے۔جیسے فرشتے نیکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔شیطان بدی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس کی مثال تو استاد کی سی ہے۔کہ وہ شاگرد کے سامنے امتحان کےو قت مشکل سوال پیش کرتا ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ استاد نے شاگرد کو فیل کیا۔فیل تو طالب علم اپنی کمزوری کے سبب سے ہوتا ہے۔استاد تو صرف اس کی لیاقت کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح فرشتے انسان کی نیکی کے معیار کو اور شیطان بدی کے معیار کو ظاہر کرتے ہیں۔نہ کہ نیک و بد بناتے ہیں۔فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ۔یعنی تم نے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھے۔مگر انہیں قبول نہ کیا۔میری طرف سے تمام جھوٹے ہی وعدے ہوئے اور تم نے ان کو مان لیا۔تو بتاؤ اس میں میرا کیا قصور ہے؟