تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 140

شیطان کا دعویٰ توحید اِنِّيْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ۠ مِنْ قَبْلُ۔یہ لطیفہ ہے کہ شیطان توحید کا دعویدار ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک بناتے تھے اور میں منکر تھا اور یہ ہے بھی درست۔وہ شیطان جو انسانی کمزوریوں کو ظاہر کرنے پر مؤکل ہے وہ تو اپنا فرض ادا کررہا ہے اور خدا تعالیٰ کا جلال اس کے سامنے ہے۔وہ شرک کس طرح کرسکتا ہے۔شرک تو تب پیدا ہوتا ہے جب انسان شیطانی تحریک کو اپنے اندر لے کر اسے نافرمانی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔سنکھیا جب تک انسان کے پیٹ میں نہیں جاتا۔ایک قیمتی دوا ہے جب انسان اس کا غلط استعمال کرتا ہے تو وہ زہر قاتل بن جاتا ہے۔یہی مثال شیطان کی ہے۔انسان کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ ایک امتحان کا سوال ہے اور کچھ بھی نہیں۔شیطان کا دوزخ میں جانا بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر شیطان دوزخ میں کیوں جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کی نسبت آتا ہے خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ۔مجھے تو نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) آگ سے پیدا کیا ہے۔پس جو چیز آگ سے پیدا ہے آگ میں جانا اس کے لئے عذاب تو نہیں۔ایک انگارہ کو اگر چولہے میں ڈال دو تو اسے کیا عذاب ہے۔صوفیاء کا عام طور پر اسی طرف رجحان ہے کہ شیطان کے اظلال تو عذاب پائیں گے لیکن خود شیطان نہیں۔کیونکہ وہ تو ایک امتحان لینے والی طاقت ہے اور فرض ادا کررہی ہے۔وَ اُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے( نیک اور) مناسب حال عمل کئے ہوں گے انہیں ان کے رب کی مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِيَّتُهُمْ اجازت سے ایسے باغوں میں جن کے( سایوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی داخل کیا جائے گا(اور) وہ اپنے رب فِيْهَا سَلٰمٌ۰۰۲۴ کی اجازت سے اس میں( ہمیشہ) بستے رہیں گے۔اور ان (جنتوں) میں ان کی (ایک دوسرے کے لئے یہ) دعا ہو گی( تم پر) سلامتی (ہو)۔حل لغات۔اَلْاذْنُ کے معنے ہیں اَلْاِجَازَۃُ۔اجازت۔اَلْاِرَادَۃُ۔ارادہ۔اَلْعِلْمُ۔علم۔(اقرب)