تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 136

اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ (اس وقت) کچھ بھی ہم پر سے دور کر سکتے ہو۔وہ( جواب میں) کہیں گے کہ اللہ (تعالیٰ )ہمیں ہدایت دیتا تو ہم عَلَيْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍؒ۰۰۲۲ ( بھی) تمہیں ہدایت دیتے (لیکن اب کیا ہو سکتا ہے) ہمارا بے صبری دکھانا یا ہمارا صبر کرنا( اس وقت) ہمارے لئے یکساں ہے (اور) ہمارے لئے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہے۔حلّ لُغَات۔اَغْنٰی مُغْنُوْنَ۔اَغْنٰی سے ہے اور اَغْنٰی عَنْہُ کے معنے ہیں اَجْزَأَہٗ۔اس سے کفایت کی۔اس کی تکلیف خود اٹھا کر اس کو بچا لیا۔اور جب مَایُغْنِیْ عَنْکَ ھٰذَا بولا جائے تو اس سے یہ معنے مراد ہوتے ہیں مَایُجْدِیْکَ کہ یہ بات تجھے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔(اقرب) پس فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا کے معنے ہوں گے کہ کیا تم ہمارے عذاب اٹھا کر ہم کو عذاب سے بچا سکتے ہو۔یا ہمیں کچھ فائدہ دے سکتے ہو۔مَحِیْصٌ۔حَاصَ یَـحِیْصُ کا مصدر ہے اور حَاصَ مَحِیْصًا کے معنے ہیں عَدَلَ وَحَادَ۔بچاؤ کرکے ایک طرف ہو گیا۔اَلْمَحِیْصُ۔اَلْمَحِیْدُ۔ایک طرف بچاؤ کی جگہ۔بچاؤ اَلْمَھْرَبُ۔بھاگنے کی جگہ (اقرب) مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ کے معنے ہوں گے ہمارے لئے بھاگنے کی کوئی صورت نہیں۔کوئی بچاؤ کی صورت نہیں۔تفسیر۔آیت کے لفظ ماضی کے ہیں اور معنے مستقبل کے اس آیت میں ماضی کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں لیکن ترجمہ مستقبل کا کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گو لفظاً ماضی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں لیکن مراد آئندہ زمانہ سے ہے کیونکہ یہاں ذکر عذاب کا ہے اور عذاب آئندہ آنے والا تھا۔ابھی تک آیا نہ تھا۔کسی امر کے یقینی وقوع پذیر ہونے کے لئے ماضی کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں ماضی کے صیغے اس امر پر زور دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے استعمال کئے ہیں کہ وہ دن ضرور آئے گااور یہ نظارہ ضرور دنیا کو دیکھنا پڑے گا۔عربی کا محاورہ ہے کہ جب کسی مستقبل کے امر کے یقینی ہونے پر زور دینا ہو تو ماضی کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اس کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔اردو میں بھی اس قاعدہ کا وجود ملتا ہے۔اگر کسی شخص کی آمد کی انتظار ہو اور کوئی شخص گھبراہٹ کا اظہار کرے تو منتظر شخص کے رشتہ دار یا دوست کہہ دیتے ہیں بس جی وہ آہی گیا ہے۔یعنی اب اس کے آنے میںکوئی دیر نہیں اور اس کا آنا یقینی ہے۔