تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 137
قومیں کمزوریوں کی وجہ سے اتنی ہلاک نہیں ہوتیں جتنی کمزوریاں ظاہر ہونےسے مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء تباہ کرنے کا ہوگا سب اس کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔یعنی ان کی اندرونی کمزوریاں اورباطنی نقائص ظاہر ہونے لگیں گے۔قوموں کی تباہی کے متعلق یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قومیں اس قدر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں جس قدر کہ ان کمزوریوں کے ظاہر ہونے کے سبب سے۔جب تک ان کی کمزوریوں پر پردہ پڑا رہتا ہے باوجود کمزوریوں کی موجودگی کے وہ بڑھتی جاتی ہیں۔کیونکہ لوگ ان سے مرعوب ہوتے ہیں۔جب ان کی کمزوریاں ظاہر ہو جاتی ہیں تو پھر باوجود پورا زور لگانے کے وہ گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔گویا کام اتنا کام نہیں آتا جس قدر کہ نام۔اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے عیب کو ظاہر کر دے گا۔ورنہ خدا تعالیٰ تو ہر بات کو ہر وقت ہی جانتا ہے۔قومی تباہی کا ایک سبب فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا یعنی جب قوم گرنے لگے گی تب کمزور طاقتوروں سے کہیں گے کہ اب ہماری حفاظت کرو۔کہ ہم تو تمہارے پیچھے اور تمہارے کہنے پر چلتے تھے۔مگر طاقتور کہیں گے کہ ہمیں خود کوئی راستہ نہیں ملتا۔ساری تدبیریں بے کار جارہی ہیں۔ہم تمہاری مدد کیا کریں۔اس لئے صبر ہی کرو۔اس میں پھر قومی تباہی کا ایک سبب بتایا ہے۔جس قوم نے زندہ رہنا ہوتا ہے وہ گرتے گرتے بھی کوشش کو جاری رکھتی ہے۔مگر جس قوم نے ہلاک ہونا ہوتا ہے وہ صبر کرکے خاموش ہو جانے کافیصلہ کرلیتی ہے۔اور اپنی حالت پر راضی ہو جاتی ہے۔حالانکہ صحیح صبر کا یہ مقام نہیں۔صبر تو بری حالت سے بچنے کا نام ہے نہ کہ اس پر راضی ہو جانے کا۔اس ا ٓیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ عذاب سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو جرم کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ڈرو نہیں ہم ذمہ دار ہیں۔ہم تمہارے ساتھ ہیں۔تو پھر تم کو کسی کا کیا ڈر۔لیکن جب خدا کا عذاب آتا ہے تو پھر کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا۔یہی حال دنیوی جرائم کا ہے۔بعض لوگ کسی کو قتل کا مرتکب بنا دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں ہم تمہیں بچائیں گے۔لیکن جب وہ مجرم پکڑا جاتا ہے تو پھر بھلا کون ہے جو یہ کہے کہ مجھے پکڑ لو۔اس وقت کوئی اپنے آپ کو اس کی جگہ پیش نہیں کرتا۔