تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 135

ہے۔کیونکہ ان کا وجود تو پیدائش عالم کی غرض کو باطل کررہا ہے۔پس انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خطرہ کے مقام میں ہیں۔اور یہ بھی انہیں نہ سمجھنا چاہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے مقام سے ہٹا نہیں سکتا کیونکہ ان کا کوئی قائم مقام نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ ایسا کرسکتا ہے کہ انہیں ہلاک کرکے دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ لے آئے۔دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ لانے سے مراد نبیوں کی جماعتیں ہیں دوسرے لوگوں سے اس جگہ نبیوں کی جماعت مراد ہے۔اور صرف یہ بتانا مقصود نہیں کہ وہ ایسا کرسکتا ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا نہ سمجھیں کہ ان کا قائم مقام نہیں مل سکتا۔ان کا بہتر قائم مقام تیار ہورہا ہے۔وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ۰۰۲۱ اوریہ بات اللہ( تعالیٰ) کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔حل لغات۔عَزیْز۔یُقَالُ عَزَّ عَلَـیَّ کَذَا۔اَیْ صَعُبَ۔عَزَّ عَلَـیَّ کَذَا کے معنے ہیں کہ یہ کام مجھ پر مشکل ہو گیا۔(مفردات) وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍکے معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں۔تفسیر۔دنیا میں کمزور اقوام کا ترقی کرنا اور زبردست کا زیر دست ہونا ناممکن امر نہیں دنیا کا عجب حال ہے۔جب کوئی قوم کمزور ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ اب ہمارا بڑھنا ناممکن ہے اور جب کوئی قوم ترقی کر جاتی ہے تو کہتی ہے کہ اب ہمارا ہلاک ہونا ناممکن ہے۔حالانکہ لوگ ہر زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ کمزور اقوام ترقی کر گئیں اور زبردست، زیردست ہو گئیں۔اس آیت میں اسی غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے۔ہزاروں دفعہ اللہ تعالیٰ نے گری ہوئی قوموں کو ترقی دی ہے اور ہزاروں دفعہ ترقی یافتہ قوموں کو قعرِمذلّت میں گرایا ہے۔وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا اور وہ سب اللہ (تعالیٰ) کے حضور آکھڑے ہوں گے تب (ان میں سے) کمزور( سمجھے جانے والے )ان سے جو كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ تکبر کیا کرتےتھے کہیں گے( کہ) ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے پس کیا تم اللہ( تعالیٰ) کے عذاب میں سے