تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 133
ہوا ہے۔الشَّیْءُ مَالَ چیز کے متعلق آئے تو اس کے معنے جھکنے کے ہوتے ہیں۔الرَّجُلُ اَسْرَعَ آدمی کے لئے یہ لفظ آئے تو اس کے معنے جلدی کرنے کے ہوتے ہیں۔اور عَاصِفٌ کے معنے اَلْمَائِلُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ کے بھی ہوتے ہیں یعنی ہر چیز کا مائل حصہ۔یَوْمٌ عَاصِفٌ کے معنے تَعْصِفُ فِیْہِ الرِّیْـحُ کے ہیں یعنی وہ دن جس میں ہوا بہت تیزی سے چلے اور یہاں اسم فاعل کا صیغہ بمعنی اسم مفعول استعال ہوا ہے اور اس کی جمع عَوَاصِفُ آتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْسے مراد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور طاقتوں کا انکار ہے كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کیا۔کیونکہ وہ لوگ تو اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے تھے۔اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار یا اس کی طاقتوں کا انکار ہے۔اللہ کی طاقتوں کے منکروں کو اعمال فائدہ نہیں دیتے بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن اس کا دخل دنیا میں نہیں مانتے۔جیسے کہ اس زمانہ کے مغربی تعلیم پائے ہوئے لوگ ہیں۔انہی سے ننانوے فی صدی بلکہ زیادہ اگر خدا تعالیٰ کو مانتے بھی ہوں تو بھی اس امر کو نہیں مانتے کہ وہ اس دنیا کے معاملات میں کوئی دخل دیتا ہے۔اس لئے ان کے سب کام دنیا یا نفس کے لئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے یا اس کے خوف کے سبب سے نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کی نسبت فرماتا ہے کہ ان کے اعمال کوئی روحانی فائدہ نہیں دیتے۔روحانیت یا آخرۃ کے لحاظ سے وہ ایسے ہی بیکار ہیں جیسے کہ وہ راکھ جس پر آندھیوں کے موسم میں تیز آندھی چلی ہو۔جیسے متواتر اور شدید آندھی کے سبب سے اس راکھ کا نام و نشان تک بھی باقی نہیں رہتا اسی طرح ان لوگوں کے اعمال آخرت کے لحاظ سے باطل ہوتے ہیں۔دنیا کے لئے کئے ہوئے عمل کا فائدہ دنیا تک ہی محدود رہ سکتا ہے کیونکہ جو کام دنیا کے لئے کیا گیا ہو اس کا فائدہ دنیا تک ہی محدود رہ سکتا ہے اور یہ بالکل انصاف کے مطابق ہے۔کیونکہ عمل کا طبعی نتیجہ تو وہ ہے جو اس کے بعد قاعدہ کے طور پر مترتب ہوتا ہے۔اور وہ نتیجہ کا فر و مومن ہر شخص کو مل جاتا ہے۔جو شخص غریبوں کی خبرگیری کرتا ہے غربا اس کی خدمت کرتے اور بوقت ضرورت اس کے لئے جان تک دے دیتے ہیں۔جو سچ بولتا ہے لوگ اس کا اعتبار کرتے ہیں اور ہزاروں مواقع پر اس اعتبار کی وجہ سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔پس جب طبعی نتیجہ انسان کو مل گیا پھر اس کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔خدا تعالیٰ کے لئے نیکی کرنے والے کو دگنا فائدہ لیکن جو شخص نیکی خدا تعالیٰ کے لئے کرتا ہے اس کے ظاہری عمل کے ساتھ ایک اور عمل اخلاص باللہ کا بھی شامل ہو جاتا ہے اور ظاہری نتیجہ کے نکلنے کے باوجود اس عمل کے