تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 134

صلہ کا وہ مستحق رہ جاتا ہے۔اور اسی کو اخروی ثواب کہتے ہیں۔یہ ثواب چونکہ عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ عمل کے ساتھ کے اخلاص باللہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس کا مستحق وہی شخص ہوسکتا ہے جس کے اعمال اپنے ساتھ اِبْتِغَاءً لِوَجْہِ اللہِ کا عمل بھی رکھتے ہوں۔یعنی نیک کام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش بھی شال ہو۔اور جس کے عمل کے ساتھ یہ امر نہ ہو اس کا بس اتنا ہی بدلہ تھا جو اسے دنیا میں مل گیا۔دوسرے معنے آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کوششیں کرتے ہیں ان کی کوششیں ضائع ہو جائیں گی۔بیکار ہوں گی۔کیونکہ مسبب الاسباب تو اللہ تعالیٰ ہے۔تمام اسباب اسی نے پیدا کئے۔پھر وہ ان اسباب کو کس طرح کامیاب کرسکتا ہے جو خود اس کے دین کے خلاف ہوں؟ عارضی خوشی منکران حق کو پہنچ سکتی ہے مگر اس امر کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عارضی خوشیاں اللہ تعالیٰ اپنے دین کے دشمنوں کو بھی پہنچا دیتا ہے اور عارضی اور وقتی فتوحات انہیں بھی ملتی رہتی ہیں جن کا مقصد ایک تو نصرت الٰہی کو چمکا کر دکھانا ہوتا ہے دوسرے اس وقفہ سے نیک لوگوں کے لئے توبہ کا موقع بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۔یعنی اس سے زیادہ ہلاکت کیا ہوگی کہ انسان محنت کرے لیکن اس کا پورا فائدہ نہ اٹھائے۔یا وہ محنت الٹی اس کے خلاف پڑے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ يَّشَاْ (اے مخاطب )کیا تو نےدیکھا نہیں کہ اللہ( تعالیٰ) نے آسمانوں اور زمین کو حق (و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے يُذْهِبْكُمْ وَ يَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍۙ۰۰۲۰ اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کر دے اور( تمہاری جگہ پر) کوئی (اور) نئی مخلوق لے آئے۔حلّ لُغَات۔اِنْ يَّشَاْيُذْهِبْكُمْ اَلذِّھَابُ۔الْمُضِیُّ۔ذِھَابٌ کے معنے ہیں چلے جانا۔وَقَالَ اِنْ یَّشَأْ یُذْھِبْکُمْ کِنَایَۃً عَنِ الْمَوْتِ۔آیت اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ میں ہلاک کرنے کے معنے مراد ہیں یعنی اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کر دے۔(مفردات) تفسیر۔اپنے عمل سے دنیا کی پیدائش کو بیکار کرنے والوں کی سزا یعنی دنیا کی پیدائش بیکار نہیں۔پس ایسے لوگ جو اپنے عمل سے اسے بے کار بنارہے ہیں انہیں خدا تعالیٰ اس دنیا پر کب حکومت دے سکتا