تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 110
رسول عرب میں آیا اسی کے سپرد سب دنیا کی اصلاح کی گئی۔پس عربی میں نازل ہونے والی وحی کو سب دنیا کے لئے ہدایت قرار دینے سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ عربی کسی نہ کسی رنگ میں ساری زبانوں کی ماں ہے اور دوسری زبانیں اس کی بیٹیوں کی طرح ہیں۔آریوں کے ایک اعتراض کا رد۔آریوں کے عقیدہ اور قرآن کے بیان میں فرق اس آیت میں آریوں کے اس اعتراض کا بھی رد ہو جاتا ہے جو وہ یوں کرتے ہیں کہ کلام الٰہی ایسی زبان میں آنا چاہیے جسے کوئی بولتا نہ ہو۔تاکہ سب میں برابری رہے(ستیارتھ پرکاش چودھواں باب)۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسی زبان میں وحی ہونی چاہیے جس کو لوگ بولتے ہوں۔تاکہ نبی ان کو سمجھا سکے اور وہ سمجھ سکیں۔جس زبان کو دنیا نہ بول سکتی ہے نہ سمجھ سکتی ہے اس میں کلام الٰہی آ نے کا فائدہ کیا ہوا۔آریوں کا یہ عقیدہ اس طرح بھی غلط ہے کہ جب وید نازل ہوئے اگر اسی وقت رشیوں نے اسے نہیں سمجھا تو ان کا نزول بے فائدہ ہو جاتا ہے۔اور اگر ان کو وید سمجھا دیا گیا تھا تو پھر برابری نہ رہی۔اور اگر اس وقت لوگ موجود تھے اور انہیں بھی سمجھا دیا گیا تھا تو گو اس وقت کے لوگوں کے لئے برابری ہو گئی مگر جو لوگ بعد میں پیدا ہوئے ان کے لئے برابری کہاں رہی۔اب تو پنڈت تک ویدوں کی زبان سے ناواقف ہورہے ہیں۔ہندوستان کی آئندہ زبان اردو ہوگی چونکہ اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر عربی کے بعد اردو میں الہام زیادہ کثرت سے ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ زبان ہندوستان کی اردو ہوگی اور دوسری کوئی زبان اس کے مقابل پر نہیں ٹھہر سکے گی۔تبیین کے بعد ہی گمراہی کا فتویٰ لگایا جا سکتا ہے لِيُبَيِّنَ لَهُمْ کے بعد یُضِلُّ اللہُ لانے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اگر سمجھنے کے سارے سامان نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ گمراہ قرار نہیں دیتا۔الزام ہمیشہ اسی وقت قائم کیا جاتا ہے جبکہ پہلے سمجھایا جاچکا ہو۔گویا تَبْیِیْن کے بعد ہی گمراہی کا فتویٰ لگایا جاسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قوم کو کسی بات کا یقینی علم نہ پہنچے اس وقت تک ان کو نہ ماننے کی وجہ سے سزا نہیں دی جاسکتی۔غیر مبایعین کے الزام کی تردید اس ضمن میں ہی میں وہ الزام بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو غیرمبایعین کی طرف سے ہم پر لگایا جاتا ہے کہ گویا ہم ہر شخص کو قابل سزا سمجھتے ہیں۔خواہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ پہنچا ہو یا نہ۔یہ الزام غلط ہے۔ہم یہ اعتقاد کیسے رکھ سکتے ہیں جب کہ قرآن شریف میں صاف طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ تباہی کا فتویٰ اسی وقت لگتا ہے جبکہ تَبْیِیْن ہوچکی ہو۔وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ کے معنی وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔وہ غالب ہے۔سزا دے سکتا ہے لیکن حکیم ہے۔