تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 109
چوتھی دلیل آپ ؐ پر یہود و نصاریٰ ایمان لانے والے انعام کے وارث ہوں گے چہارم:- اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو یہود و نصاریٰ میں سے آپ پر ایمان لائیں گے وہ کامیاب و مظفر ہوں گے۔اگر آپ صرف عرب کی طرف تھے تو پھر تو یہود و نصاریٰ کو ایمان لانے پر سزا ملنی چاہیے تھی نہ کہ انعام ملنا چاہیے تھا۔پس ان چاروں دلیلوں سے ثابت ہے کہ اور کسی قوم کی طرف آپ مبعوث تھے یا نہ تھے یہود و نصاریٰ کی طرف تو ضرور تھے۔لیکن پانچویں دلیل نے تو بات کو بالکل ہی کھول دیا ہے۔دلیل پنجم آنحضرت ؐ ساری دنیا کے لئے رسول ہو کر آئے ہیں پنجم:- دلیل پنجم یہ ہے کہ قرآن کریم نے اوپر کے دلائل کا نتیجہ نکال کر خود ہی فرما دیا ہے۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا۔کہہ دے کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف رسول ہوکر آیا ہوں۔اس دعویٰ نے تو بات کو بالکل صاف کر دیا اور یہود و نصاریٰ کے علاوہ دوسری اقوام کو بھی آپؐ کا مخاطب بنا دیا۔آنحضرت ؐ کا ساری دنیا کے لئے مبعوث ہونے کا حدیث سے ثبوت ایک اور آیت میں فرماتا ہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا (السبا:۲۹) کہ ہم نے تجھے تمام جہان کی طرف بشیر و نذیر کرکے بھیجا ہے۔پھر حدیث میں بھی آتا ہے بُعِثْتُ اِلَی الْاَسْوَدِ وَالْاَحْمَرِ(مسند احمد بن حنبل بروایت جابر بن عبداللہ)۔میں ہر کالے گورے کی طرف بھیجا گیا ہوں۔عرب کبھی بھی اپنے آپ کو اسود نہیں کہتے۔بلکہ ہمیشہ احمر کہتے ہیں۔اب اسود قوم کوئی اور نکالنی پڑے گی۔عربی زبان کے محاورہ کے مطابق وہ عجم ہی ہیں۔لغت میں بھی الْاَسْوَدُ وَالْاَحْمَرُ کے معنے الْعَجَمُ وَالعَرَبُ لکھے ہیں۔(مجمع البحار ) پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً میں سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔(مسند احمد بروایت حضرت جابرؓ) ایک اور روایت میں ان کی جگہ یہ الفاظ ہیں اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً۔میں سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔( مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب المساجد و مواضع الصلاۃ ، مشکوٰۃ المصابیح کتاب المصابیح باب فضائل سید المرسلین الباب الاول) ان تمام آیات و احادیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلعم کی بعثت تمام دنیا کے لئے تھی۔اور مسیحی مصنفین کا اعتراض باطل ہے۔جس قوم کو نبی پہلے مخاطب کرتا ہے اسی زبان میںاس کو الہام ہوتا ہے اسی طرح ان آیات و احادیث سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ جس قوم کو نبی پہلے مخاطب کرتا ہے اس کی زبان میں اس کو الہام ہو تا ہے۔اور پھر وہ لوگ بات کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔عربی زبان اُمّ الاَلْسِنَۃ ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عربی اُمّ الْاَلْسِنَۃ ہے۔کیونکہ جو