تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 111

اس لئے جب تک سزا کے وجوہ نہ ہوں اس وقت تک سزا دیتا نہیں۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ اور( تجھ سے پہلے) ہم نے موسیٰ کو( بھی) اپنے نشانات کےسا تھ یہ( حکم دے کر) بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو ظلمات سے الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ نکال کر نور کی طرف لا۔اور انہیں اللہ( تعالیٰ) کے انعام اور اس کے عذاب یاد دلا۔(کیو نکہ) بلا شبہ اس میں ہر ایک لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ۰۰۶ پور ے صابر (اور)پورے شکر گذار کے لئے کئی نشان( پائے جاتے) ہیں۔حلّ لُغَات۔وَذَکِّرْھُمْ۔ذَکَّرَالنَّاسَ وَعَظَھُمْ ذَکَّرَالنَّاسَ کے معنے ہیں کہ اس نے لوگوں کو نصیحت کی۔ذَکَّرَہٗ جَعَلَہٗ یَذْکُرُ۔اس کو یاد دلایا (اقرب) اَیَّامُ اللہِ نِعَمُہٗ وَنِقَمُہٗ۔اَ یَّامُ اللہِ سے مراد اللہ تعالیٰ کے انعامات اور عذاب ہیں (اقرب) پس ذَکِّرْھُمْ بِاَ یَّامِ اللہِ کے یہ معنے ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور انعامات یا ددلا۔صَبَّارٌ صَبَرَ سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔یعنے بہت صبر کرنے والا۔صَبَرَ کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۲۳۔شَکُوْرٌ شَکَرَ سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور شکر کبھی بغیر صلہ اور کبھی ل کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔یعنی شَکَرَہٗ وَشَکَرَلَہٗ اور اگر شَکَرَ کا ’’ل‘‘ صلہ آئے تو یہ زیادہ فصیح سمجھا جاتا ہے اور شَکَرَہٗ وَشَکَرَلَہٗ کے معنے یہ ہوتے ہیں أَثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا اَوْلَاہُ مِنَ الْمَعْرُوْفِ۔کہ کسی کے احسان کے باعث اس کی تعریف کی۔گویا اقرارِ احسان اظہارِ قدر کے ساتھ شکر کہلاتا ہے اور کثرت کے ساتھ اقرارِ احسان کرنے والے کو شکور کہتے ہیں۔تفسیر۔مسلمانوں کو صبر اور شکر کرنے اور استقلال سے کام کرنے کی نصیحت فرمایا کہ جو کام تیرے سپرد ہوا ہے ویسا ہی کام موسیٰ علیہ السلام کے سپرد ہوا تھا۔پس تیرے متعلق بحث کرتے ہوئے مخالف اور موافق کو موسیٰ کے حالات مدنظر رکھنے چاہئیں۔یہ بھی فرمایا کہ موسیٰ کے معاملے میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے نشانات ہیں۔یعنی جیسے موسیٰ کی قوم نے صبر کیا تھا اور نتیجہ اچھا نکلا تھا بعینہٖ اسی طرح مصائب آئیں گے۔جب تک مسلمان استقلال سے کام نہیں کریں گے کامیابی مشکل ہے۔اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ