تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 108
موعود رسول کی اطاعت کریں گے جس کی بعثت کی بشارات کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔وہ رسول وقت پر مبعوث ہوکر انہیں نیک کاموں کی تلقین کر رہا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے۔اور وہ ان سے سخت حکموں کے بوجھوں کو اور رسومات کے پھندوں کو جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے دور کرتا ہے۔پس جو لوگ اس پر کامل طور پر ایمان لائے اور پھر انہوں نے اس کی حمایت اور مدد کے لئے ہر ممکن کوشش سے کام لیا اور اس نور کی انہوں نے اتباع کی جو اس رسول کے ساتھ اتارا گیا۔صرف ایسے لوگ ہی کامیاب ہوں گے۔اے ہمارے رسول! تو یہ اعلان کر کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف اس خدا کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔اس کے سوا کوئی اور معبود قابل پرستش نہیں۔وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔پس اے لوگو! اللہ پر اور اس کے موعود بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لاؤ۔جو خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر پورا ایمان رکھتا ہے اور اس کی کامل پیروی کی راہوں پر چلو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔اس میں پانچ دلیلیں اس امر کی دی گئی ہیں کہ نبی کریم صلعم ساری دنیا کے لئے ہیں۔پہلی دلیل اہل کتاب کو آپ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا اول:- اہل کتاب کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کو تسلیم کریں۔فرمایا اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ یعنی اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت کا انعام دیا جائے گا جو آنحضرت صلعم کو مانیں گے۔اگر آپ صرف عرب کے لئے تھے تو اہل کتاب کو رحمت کا انعام حاصل کرنے کے لئے آپ کی اتباع کا کیوں حکم دیا گیا۔دوسری دلیل تورات و انجیل میں آنحضرت ؐ کی پیشگوئی تھی دوم:- اس آیت میں ذکر ہے کہ تورات و انجیل میں آنحضرت صلعم کی پیشگوئی ہے۔اگر آپ ان کی طرف مبعوث ہی نہ تھے تو ان کے لئے پیشگوئی کی کیا ضرورت تھی۔کیونکہ جن کو فائدہ ہوسکتا ہے وہ مکہ والے تھے اور وہ تورات و انجیل کو نہیں مانتے تھے۔اور پیشگوئی اس لئے کی جاتی ہے کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے ہدایت ہو۔پس تورات اور انجیل میں اسی لئے پیشگوئیاں کی گئی تھیں کہ یہود اور مسیحیوں کے لئے آنحضرت صلعم کا ماننا ضروری تھا۔اور قرآن کریم ان پیشگوئیوں کی طرف اسی لئے اشارہ کرتا ہے کہ اس کے نزدیک ان کتب کے ماننے والوں کے لئے بھی آپ کا ماننا ضروری تھا۔تیسری دلیل آنحضرت ؐ کا انہیں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنا ہے سوم:- اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلعم انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں۔اگر وہ مخاطب نہ تھے تو پھر ان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کیا ضرورت تھی۔