تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 107
علیہ السلام کے الہاموں پر یہ آیت پیش کرکے اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ عربی اور اردو کے سوا آپ کو جن زبانوں میں الہام ہوئے وہ بطور نشان اور معجزات کے ہیں۔عربی میں آپ کو اس لئے الہام ہوئے کہ وہ اسلام کی مذہبی زبان ہے۔اور اس طرح مسلمانوں کی قومی زبان ہے اور اردو میں اس لئے کہ آپ کے پہلے مخاطب اردودان تھے۔اور اگر دیکھا جائے تو آپ کے الہامات کا اصولی حصہ سب کا سب یا عربی میں ہے یا اردو میں۔دوسری زبانوں میں جو الہام ہوئے ہیں وہ ایسے نہیں کہ ان کے بغیر تبلیغ میں روک پیدا ہو۔وہ صرف ایک مزید تائید اور نشان کے طور پر ہیں۔اس آیت سے ویری کا آنحضرت ؐ کی ذات پر اعتراض عیسائیوں نے اور بالخصوص ویری نے اس آیت سے رسول کریم صلعم کی ذات پر اعتراض کیا ہے۔ویری صاحب کہتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے محمد رسول اللہ صلعم صرف عرب کے لئے تھے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرنا جائز ہے۔ان کی یہ دونوں باتیں آپس میں متضاد ہیں۔ویری کے اعتراض کا جواب اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف عرب کے لئے تھے تو ترجمہ کا سوال ہی کہاں رہا؟ جب دوسری قوموں کا اس سے تعلق ہی نہیں تو ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں اور اگر اس آیت سے ترجمہ کرنا جائز ثابت ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ آپ کی رسالت دوسری قوموں کے لئے بھی تھی۔حقیقی جواب اس سوال کا یہ ہے کہ یہ مفہوم اس آیت کا ہو ہی نہیں سکتا کہ آنحضرت صلعم عرب کے لئے ہیں۔آنحضرت ؐ کے سب دنیا کی طرف مبعوث ہونے کے قرآن مجید سے پانچ دلائل کیونکہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے صاف ثابت ہے کہ آپ سب دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ سورۃ اعراف ع۱۹،۲۰ میں فرماتا ہے وَرَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ١ٞيَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ١ؕ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔(آیت ۱۵۷ تا ۱۵۹) یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اب میں خاص طور پر اس کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے۔اور زکوٰۃ دیں گے اور جو لوگ پورے طور پر ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔نیز جو کامل طور پر ہمارے اس