تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 65
تفسیر۔بطلان عقیدہ نسخ فی القرآن یعنی جیسا کہ تم اس کے بدلنے کے لئے کہتے ہو اگر اس کا بدلنا مفید ہوتا اور دوسرا نسخہ کام آسکتا تو وہ نسخہ پہلے ہی کیوں نہ آجاتا۔اس کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس آیت سے نسخ کے عقیدہ پر سخت حملہ ہوتا ہے۔نسخ صرف احکام میں ہوسکتا ہے۔وہ بھی صرف اس لئے کہ بعض اوقات ایک حکم مفید ہوتا ہے۔بعض اوقات دوسرا۔لیکن اگر حالات کے بدلنے کے بغیر نسخ ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ وہ پہلی تعلیم اپنی ذات میں مفید نہ تھی۔اور اس کا پیش کرنا ہی غلط تھا۔اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلواتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ اگریہ تعلیم مفید نہ ہوتی بلکہ کوئی اور تعلیم تمہاری حالت کی اصلاح کرسکتی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم پاکر میں اس تعلیم کو کیوں تمہیں سناتا اور خدا تعالیٰ کیوں یہ تعلیم بھیجتا؟ دعوی نبوت سے قبل کی زندگی ایک بہت بڑا معیار صداقت ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ۔میں ایک بہت بڑا اصل مدعی نبوت کی صداقت کے پہچاننے کا بیان کیا گیا ہے۔بلکہ ہر شخص کے حالات کی پرکھ اس اصل پر ہوسکتی ہے۔بشرطیکہ اس کے معنوں کو ناجائز وسعت نہ دے دی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ نبوت یا قرآن کریم کے نزول کے زمانہ سے پہلے زمانہ کو بطور شہادت کفار کے سامنے پیش کریں کہ اس میں میری زندگی صداقت کا ایک اعلیٰ نمونہ رہی ہے۔اور اس زمانہ اور نبوت کے زمانہ میں کوئی وقفہ نہیں پڑا۔میں تمہاری نظروں سے غائب نہیں رہا۔کہ تم خیال کرو کہ اس عرصہ میں میں بگڑ گیا ہوں گا۔جب تم تسلیم کرتے ہو کہ عمر بھر میں پکا راستباز رہا ہوں اور امین کہلاتا رہا ہوں تو ان اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے انعام ملنا چاہیے تھا نہ یہ کہ میں یکدم ایک ہی رات میں جھوٹا اور فریبی ہو جاتا۔کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص کل شام تک سب سے بڑا سچا ہو صبح ہوتے تک دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہو جائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔جو شخص بندوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ خدا تعالیٰ پر کس طرح جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ انتہائی تغیر یکلخت نہیں ہوا کرتا انسانی فطرت کا قاعدہ ہے کہ اس میں انتہائی تغیر خواہ نیکی کی طرف ہو یا بدی کی طرف یک لخت نہیں ہوتا بلکہ ایسے تغیر کے لئے ایک عرصہ چاہیے۔لیکن آیت کے الفاظ بتارہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے اور آپ کی تمام عمر آپ کے ہم وطنوں کے لئے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی۔پس اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم ہمارے رسول کی طرف جھوٹ تو وہ منسوب کرتے ہو جو سب سے بڑا جھوٹ ہے۔یعنی خدا پر افترا کرنا۔لیکن اس کے نشوونما کے لئے کسی عرصہ کا ثبوت نہیں دے سکتے بلکہ اس کے برخلاف تم خود تسلیم کرتے ہو کہ یہ رسول دعویٰ نبوت کی گھڑی