تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 66
تک تمہارے درمیان رہتا رہا ہے اور اس گھڑی تک تم اس کو نیک پاک امین اور راستباز ہی قرار دیتے رہے ہو۔پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ شخص اپنے پاس سے جھوٹ بنا کر تم کو یہ تعلیم دے رہا ہے؟ دعویٰ کے بعد کےاعتراضات قابل التفات نہیں مِنْ قَبْلِهٖ کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ دعوائے نبوت کے بعد کے اعتراض قابل التفات نہیں۔کیونکہ اس وقت مخالفت کے باعث دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔اس نکتہ کو ہرقل بادشاہ روم نے بھی خوب سمجھا تھا۔کیونکہ جب اس نے ابوسفیان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چال چلن کے متعلق شہادت طلب کی تو اس سے یہی مطالبہ کیا تھا کہ آپ کا چال چلن اس دعویٰ سے پہلے تمہارے نزدیک کیسا تھا۔فوری تغیر کے اسباب اَفَلَا تَعْقِلُوْنَکہہ کر بتایا ہے کہ اس کے خلاف بات کہنا عقل کے خلاف ہے کیونکہ یہ بات علم النفس سے ثابت ہے کہ فوری تغیر دو اسباب کے بغیر نہیں ہوتے یا تو جسمانی تغیر کے سبب سے جیسے کہ کسی انسان کے دماغ کو چوٹ وغیرہ کے ذریعہ سے کوئی صدمہ پہنچ جائے جس سے اس کا حافظہ جاتا رہے۔یا اخلاق بگڑ جائیں۔یا اخلاق کی اصلاح ہو جائے۔یا پھر کسی عظیم الشان روحانی تغیر سے یکدم تغیر ہوتا ہے۔جیسا کہ مثلاً بعض دفعہ کسی انسان کو کوئی عظیم الشان صدمہ پہنچتا ہے تو اس کی وجہ سے مایوسی کا پہلو اختیار کرکے بدی کی طرف جھک جاتا ہے۔یا کسی عظیم الشان صداقت کا انکشاف ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یک دم نیکی کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ان دو تغیرات کے بغیر انسان میں فوری تغیر نہیں ہوتا۔بلکہ تدریجی تغیرات ہوتے ہیں۔لیکن تاریخ سے ہرگز ثابت نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔نہ جسمانی طور پر نہ روحانی طور پر۔کیونکہ نبوت سے ایک عرصہ پہلے آپ دنیا کو ترک کرکے علیحدہ عبادت کرنے کے عادی تھے۔اور اپنے اہل وطن سے مایوس نہ تھے۔بلکہ ان کے ہم درد اور خیر خواہ تھے۔اور ان کی ترقی کے لئے کوشش کرتے تھے۔پس ان حالات میں بالکل خلاف عقل ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ کل تک تو بے شک یہ شخص نیکی کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا مگر آج بدترین جھوٹا انسان ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کا اس معیار کو اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کرنا اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس آیت سے استدلال کیا ہے اور افسوس کہ آپ کے مخالف بھی ویسی ہی باتوں میں مشغول رہے ہیں۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف۔کاش! لوگ غور کرتے کہ وہی شخص جو بدترین دشمنوں کے نزدیک بھی دعوائے مسیحیت سے پہلے اسلام کا سب سے بڑا خادم اور راستبازی کا ایک بے نظیر نمونہ تھا وہ یک دم اس قدر کیوں بگڑ گیا کہ اس نے خدا تعالیٰ پر افترا کرنا شروع کر دیا۔اس دلیل کے متعلق بعض تاریخی حالات قرآن شریف کی اس دلیل کے متعلق بعض تاریخی واقعات