تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 64

قرآن کریم میں کوئی تبدیلی یا نسخ ہونا غرض نزول قرآن کریم کے منافی ہے اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ کے یہ معنی نہیں کہ اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ عذاب عظیم پہنچے گا تو میں تبدیلی یا تغیر کر دیتا کیونکہ آیت کے یہ الفاظ نہیں کہ مجھ پر عذاب نازل ہوگا۔اس سے میں ڈرتا ہوں۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر میں ایسا کروں تو یوم عظیم کا عذاب آجائے گا۔اور یوم عظیم کا عذاب قومی عذاب ہوتا ہے کیونکہ وہ وسیع ہوتا ہے اور دنیا پر ایک مستقل اثر چھوڑ جاتا ہے۔پس اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم آتی ہے وہ خود لوگوں کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے۔اور تمام ترقی اس سے وابستہ ہوتی ہے۔پس اگر اس تعلیم میں تبدیلی کر دی جائے تو اس کا نقصان خود ملک اور قوم کو پہنچے گا اور قوم کی تباہی کا دن آجائے گا۔پس اس کے بدلنے میں قوم کی خیرخواہی نہیں ہے۔بلکہ اس کے قائم کرنے میں قوم اور ملک کی خیرخواہی ہے۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی بیمار ڈاکٹر سے کہے کہ اس نسخہ کی فلاں دوائی بدل دو تب میں کھاؤں گا تو ڈاکٹر کہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ نسخہ بدلنے سے تکلیف ہوگی۔تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اگر تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں اس کو بدل دیتا بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ نسخہ یہی مفید ہے۔قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖٞ (اور) تو (انہیں) کہہ کہ اگر اللہ( تعالیٰ) کی( یہی) مشیت ہوتی (کہ اس کی جگہ کوئی اور تعلیم دی جائے) تو میں فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۰۰۱۷ اسے پڑھ کر تمہیں نہ سناتا اور نہ وہ( ہی) تمہیں اس( تعلیم )سے آگاہ کرتا۔چنانچہ اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گذار چکا ہوں۔کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔حلّ لُغات۔دَرٰی درٰی یَدْرِیْ دَرْیًا وَدِرَایَۃً عَلِمَہٗ۔دَرٰی کے معنی ہوتے ہیں۔اسے جان لیا (اقرب) اَدْرٰی بِہٖ اَعْلَمْہٗ بِہٖ۔اسے اس کا علم دیا۔(اقرب) لَبِثَ لبِثَ بِالْمَکَانِ یَلْبَثُ لَبْثًا وَلُبْثًا وَلِبَاثًا۔مَکَثَ وَ اَقَامَ۔مکان میں رہا یا ٹھہرا۔قَدْ قَدْکا لفظ جب ماضی پر آئے تو اس کے معنی کو حال کے قریب کر دیتا ہے۔پس اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ میں تم میں نبوت کے زمانہ تک رہتا چلا آیا ہوں کہیں غائب نہیں ہوا۔