تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 50
رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کا لفظ بڑھانے کی وجہ اس جگہ اگر یہ سوال ہو کہ انہوں نے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ کیوں کہا۔خالی اَلْحَمْدُلِلہِ کیوں نہ کہہ دیا۔حالانکہ یہ کافی تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن ساتھ لگانے کی مختلف وجوہ ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمام چیزوں کی حکمتوں کو جاننا اور ان سے فائدہ پہنچانا رَبُّ العٰلَمِیْنَ کا ہی کام ہے جو تمام دنیا کی ضروریات کو جانتا ہے۔مثلاً ایک گرم ملک میں گرمی کی تکلیف کو دیکھ کر اگر کوئی کہے کہ یہ بڑی مصیبت ہے اور شکایت کرے تو یہ اس لئے ہوگا کہ وہ نہیں جانتا کہ اس گرمی سے ہی ہزاروں چیزوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ان حکمتوں کو رَبُّ الْعٰلَمِیْن ہی سمجھ سکتا ہے۔جس کا ہر چیز سے تعلق ہے اور ہر چیز کی حاجتوں کو پورا کرنا جس کا کام ہے۔پس اگلے جہان میں جانے پر جب مومنوں کو تمام حقیقتوں اور حکمتوں سے آگاہی ہوجائے گی تو وہ کہیں گے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔بے شک ہم اپنے محدود علم کی وجہ سے دنیا کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔کیونکہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن خدا ہی ہے جس کی نظر میں سب کچھ ہے باریک در باریک حقیقت سے واقف ہوسکتا ہے سو ہم اس کی حمد کرتے ہیں۔وَ لَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ۠ بِالْخَيْرِ اور اگر اللہ (تعالیٰ) ان لوگوں پر( ان کے اعمال کی) بدی (کا نتیجہ) ان کے مال کو جلد چاہنے کی طرح جلد وارد کرتا تو لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ان کی (زندگی کےاختتام کی) میعاد ان پر لائی جاچکی ہوتی (مگر چونکہ ہم نے ایسا پسند نہیں کیا) اس لئے ہم ان لوگوں فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۰۰۱۲ کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اس حالت میں چھوڑ رہے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں سرگردان پھر رہے ہیں۔حلّ لُغات۔اِسْتَعْجَلَ اِسْتَعْجَلَہٗ حَثَّہٗ۔اسے کام پر آمادہ کیا۔اَمَرَہٗ اَنْ یَّعْجَلَ۔اسے جلدی کرنے کے لئے کہا۔طَلَبَ عُجْلَتَہٗ وَلَمْ یَصْبِرْ اِلَی وَقْتِہٖ۔کسی کام کے لئے کوشش کی کہ وقت سے پہلے ہو جائے۔مَرَّفُلَانٌ یَسْتَعْجِلُ اَیْ یُکَلِّفُ نَفْسَہُ الْعُجْلَۃَ۔یعنی اپنی طبیعت پر زور ڈال کر تیزی سے چلا۔اِسْتَعْجَلَ فُلَانًا سَبَقَہٗ وَتَقَدَّمَہٗ۔فلاں شخص سے آگے نکل گیا۔(اقرب)