تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 51

خَیْرٌ اَلْخَیْرُ وِجْدَ انُ الشَّیْ ءِ عَلٰی کَمَالَاتِہِ اللَّائِقَۃِ۔کسی چیز کا اس کے مناسب حال کمالات کے ساتھ پایا جانا۔اَلْمَالُ مُطْلَقًا۔خالی مال کو بھی بعض وقت خیر کہہ لیتے ہیں۔اَلْخَیْلُ۔بہت سے گھوڑوں کو بھی خیر کہہ لیتے ہیں۔خیر اس شخص کو بھی کہتے ہیں کہ جس میں ہر قسم کے کمالات بہ کثرت پائے جائیں۔(اقرب) قَضٰی اِلَیْہِ قَضٰی اِلَیْہِ الْاَمْرَ اَنْہَاہُ وَاَبْلَغَہٗ۔اس تک اس چیز کو پہنچا دیا (اقرب) اور جب کسی بات کے متعلق ہو تو اس بات کے سنا دینے کے معنی ہوں گے۔اور جب کسی چیز کے متعلق ہو تو اس کے معنی اس چیز کے پہنچا دینے کے ہوں گے۔پس أَقْضَی اِلَیْہِمْ اَلْاَجَلَ کے معنی ہوں گے ان تک ان کی موت پہنچا دی۔یعنی انہیں ہلاک کر دیا۔اَجَلٌ اَلْاَجَلُ مُدَّۃُ الشَّیءِ وَوَقْتُہُ الَّذِیْ یَحِلُّ فِیْہِ۔اَجَلٌ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی کام ہونا ہو۔کہتے ہیں ضَرَبْتُ لَہٗ اَجَلًا۔میں نے اس کے واسطے فلاں کام کے لئے ایک مدت مقرر کر دی ہے۔(اقرب) طُغْیَانٌ طُغْیَانٌمصدر ہے ظَغِیَ یَطْغٰی یا طَغٰی یَطْغِیْ کی اور اس کے علاوہ طغًی اور طِغْیَانًا کی صورت پر بھی اس کی مصدر آتی ہے۔طَغٰی کے معنی ہیں جَاوَزَ الْقَدْرَ وَالحَدُّ۔اندازہ اور حد سے باہر ہو گیا۔طَغَی الْکَافِرُ غَلَا فِی الْکُفْرِ کفر میں زیادہ بڑھ گیا۔فُلَانٌ۔اَسْرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ وَالظُّلْمِ گناہ اور ظلم میں حد سے بڑھ گیا۔الْمَاءُ۔اِرْتَفَعَ۔پانی اونچا ہو گیا۔طغیانی اور سیلاب آگیا۔(اقرب) عَمِہَ یَعْمَھُوْنَ عَمِہَ سے مضارع کا صیغہ ہے۔کہتے ہیں عَمِہَ الرَّجُلُ۔جس کے معنی ہیں تَرَدَّدَ فِی الضَّلَالِ وَتَحَیَّرَ فِی مَنَازَعَۃٍ اَوْ طَرِیْقٍ۔وہ شخص گمراہی کی حالت میں حیران پھرتا رہا۔یا جھگڑے میں یا راستہ میں حیران رہ گیا۔کہ اصل حقیقت یا اصل راستہ کون سا ہے۔اور یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کو دلیل نہ سوجھے یا بات نہ آئے تو اس حالت کو بھی عَمَہٌ کہتے ہیں۔جیسا کہ لکھا ہے اَلْعَمَہُ اَنْ لَّا یَعْرِفَ الْحُجَّۃَ۔عَمَہٌ کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دلیل نظر نہ آئے۔اس کا اسم فاعل عَامِہٌ ہے اور اس کی جمع عُمّہ اور صیغہ مبالغہ عَمِہٌ ہے۔جس کی جمع عَمِہُوْنَ ہے۔عَمِہَ اور عَمِیَ میں فرق عَمیَ کا لفظ جو قرآن کریم میں آتا ہے اور جس سے اَعْمٰی کا لفظ بنا ہے اس کے معنی بھی اندھے پن کے ہیں مگر زمخشری کا قول ہے کہ وہ عَمِہَ سے عام ہے۔اَعْمٰی اس شخص کو کہتے ہیں جو آنکھ کا یا عقل کا اندھا ہو۔مگر عَامِہٌ صرف اس کو کہتے ہیں جو عقل کا اندھا ہو۔آنکھ کے اندھے کو عَامِہٌ نہیں کہتے۔(اقرب) پس معنی یہ ہوئے کہ اپنی ظالمانہ زیادتیوں میں سرگردان پھرتے ہیں اور پھرتے رہیں گے۔اور ان کی عقلیں ماری ہوئی ہیں اور ماری رہیں گی۔تفسیر۔اِسْتِعْجَالَہُمْ بِالْخَیْرِ کے معنی۔اس آیت کے پہلے حصہ کے متعلق بہت اختلاف ہے