تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 521
تفسیر۔حضرت یوسفؑ کا واقعہ قصہ کے طور پر بیان نہیں ہوا اس آیت میں واضح کر دیا ہے کہ یوسف علیہ السلام کا واقعہ قصہ کے طور پر بیان نہیں ہوا ہے بلکہ یہ غیب کی خبریں ہیں یعنی اس واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آئندہ زندگی کے متعلق خبریں ہیں۔چنانچہ جیسا کہ اس سورۃ کی مختلف آیات کی تفسیر میں بتایا گیا ہے حضرت یوسفؑ کی زندگی کے تمام اہم معاملات آنحضرت صلعم کی زندگی میں پورے ہوئے ہیں وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ يَمْكُرُوْنَ۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ان مکہ والوں کے پاس نہ تھا جب انہوں نے تیرے متعلق اپنا منصوبہ کیا اور وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے۔اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ میں آنحضرتؐ کے بھائی مراد ہیں اس جگہ یوسفؑ کے بھائی مراد نہیں بلکہ آنحضرت صلعم کے بھائی مراد ہیں اور بتایا ہے کہ جو سلوک مکہ والوں نے تجھ سے یوسفؑ کے بھائیوں کی مماثلت میں کرنا ہے وہ تیرے اختیار کی بات تو نہیں۔پس یہ اخبار غیبیہ کسی انسانی دماغ کا اختراع نہیں کہلا سکتیں بلکہ عالم الغیب خدا کی بتائی ہوئی ہیں۔وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۴ اور خواہ تو( کتنا ہی) چاہے (کہ سب لوگ ہدایت پا جائیں )اکثر لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔تفسیر۔یعنی تیری ذاتی کوشش تو یہی ہوگی کہ تیری قوم تجھ پر فوراً ایمان لائے۔لیکن منشائے الٰہی یہی ہے کہ ان سے یوسف کے بھائیوں والے کام ہوں اور تیری خارق عادت ترقی کے بعد وہ ایمان لائیں نہ کہ اس سے پہلے۔وَ مَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ اور تو اس (تبلیغ و تعلیم) کی بابت ان سے کوئی اجر نہیں مانگتا یہ تو تمام جہانوں( اور سب لوگوں) کے لئے( خود) سراسر لِّلْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۱۰۵ شرف (کاموجب) ہے۔ٍ حلّ لُغَات۔اَلذِّکْرُ۔اَلتَّلَفُّظُ بِالشَّیْءِ وَاِحْضَارُہٗ فِی الذِّھْنِ بِحَیْثُ لَایَغِیْبُ عَنْہُ۔کسی چیز کا