تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 520

ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام یہ کہتے ہیں کہ میری زندگی اللہ تعالیٰ کے فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہونے کا ثبوت ہے۔جب میں لاشئی محض تھا خدا تعالیٰ نے مجھے اعلیٰ ترقیات کی خبر دی اور پھر میں جو ایک معمولی حیثیت کا انسان تھا مجھے طاقت دے کر ایک بڑی حکومت بخشی اور گویا ایک نیا آسمان اورزمین پیدا کر دیا۔پس میرے وجود سے اللہ تعالیٰ کے فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہونے کا ثبوت مل گیا ہے۔اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ۔درحقیقت دعا ہے یعنی اے خدا تو میرا دنیا و آخرت میں مددگار بن۔چنانچہ اسی کی تشریح میں فرمایاتَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۔یعنی اس دنیا میں میرا انجام بخیر ہو اور اگلے جہان میں میں ان لوگوں میں شامل رہوں جو ترقی کے قابل ہیں۔ولایت دُنیوی اور ولایت اُخروی کی تفسیر ولایت دنیوی کی تفسیر تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا کے الفاظ سے کی ہے اور ولایت اخروی کی تفسیر اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ کے الفاظ سے اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا کہہ دیا تو اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ کی کیا ضرورت تھی؟ جو مسلم فوت ہوگا صالحین میں اٹھے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم کا لفظ عام ہے۔ایک شخص جس کا اسلام حقیقت میں کمزور ہے وہ ظاہری شریعت کی رو سے مسلم کہلا سکتا ہے اور ایسا شخص تھوڑی سی سزا پاکر جنت میں داخل ہو جائے گا مگر حضرت یوسف علیہ السلام چاہتے ہیں کہ اس دنیا سے وہ ایسا مسلم ہونے کی حالت میں جائیں کہ آگے جاکر صالحین کے ساتھ الحاق ہو یعنی ایسے کامل مسلم ہوں کہ بغیر کسی روک کے مرنے کے بعد ترقیات ہی کی طرف قدم اٹھے اور یہی وہ مقام ہے جس کی جستجو مومن کو ہونی چاہیے۔ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ (اے ہمارے رسول!) یہ (بیان) غیب کی خبروں میں سے ہے ہم اسے تجھ پر وحی (کےذریعے سے ظاہر) کرتے لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ يَمْكُرُوْنَ۰۰۱۰۳ ہیں اور جب انہوں نے (یعنی تیرے دشمنوں نے) اپنی بات پر اس حال میں اتفاق کر لیا کہ وہ( سب کے سب) تیرے خلاف کوششیں کر رہے تھے تو تُو (اس وقت) ان کے پاس (موجود) نہیں تھا۔حلّ لُغَات۔اَجْمَعُوْا۔اَجْمَعَ ماضی سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور اَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَی الْاَمْرِ کے معنے ہیں اِتَّفَقُوْا عَلَیْہِ۔قوم نے کسی بات پر اتفاق کرلیا۔(اقرب)