تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 515

دونوں مذکورہ بالا معنے مراد ہیں۔بلندی مکان اور فضیلت و شرف۔(مفردات) اَلْعَرْشُ۔اَلْعَرْشُ سَرِیْرُ الْمَلِکِ۔اورنگ شاہی۔(اقرب) اَلْعَرْشُ فِی الْاَصْلِ شَیْءٌ مُسَقَّفٌ۔عرش کے اصلی معنی چھتی ہوئی چیز کے ہیں۔وَمِنْہُ قِیْلَ عَرَشْتُ الْکَرْمَ وَعَرَّشْتُہٗ۔اِذَا جَعَلْتُ لَہٗ کَھَیْئَۃِ سَقْفٍ۔چنانچہ انہی معنوں میں عَرَّشْتُ الْکَرْمَ کا فقرہ استعمال ہوتا ہے کہ انگوروں کی بیل کے پھیلنے کے لئے چھت کی قسم کی کوئی چیز بنادی۔وَسُمِّیَ مَجْلِسُ السُّلْطَانِ عَرْشًا اِعْتِبَارًا بِعَلُوِّہٖ۔اور بادشاہ کی مجلس کو اس کی رفعت کی وجہ سے عرش کہہ دیتے ہیں۔وَکُنِّیَ بِہٖ عَنِ الْعِزِّ وَالسُّلْطَانِ وَالْمَمْلَکَۃِ۔نیز عرش سے مراد کنایۃً عزت و غلبہ اور بادشاہت بھی لی جاتی ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت۵پس رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ کے معنے ہوئے کہ اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا یا بادشاہ کے حضور پیش کیا۔(مفردات) خَرَّخَرُّوْا۔خَرَّ ماضی سے جمع غائب کا صیغہ ہے۔جس کے معنے ہیں سَقَطَ۔سُقُوْطًا یُسْمَعُ مِنْہُ خَرِیْرٌ۔ایسے طور پر گرنا کہ اس سے آواز سنائی دے۔وَالْخَرِیْرُ یُقَالُ لِصَوْتِ الْمَاءِ وَالرِّیْحِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ مِمَّا یَسْقُطُ مِنْ عُلُوٍّ۔اور خریر اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے اوپر سے گرنے یا ہوا اور پانی کے چلنے سے پیدا ہو۔وقَوْلُہٗ خَرُّوْالَہٗ سُجَّدًا فَاسْتِعْمَالُ الْخَرِّ تَنْبِیْہٌ عَلٰی اِجْتِمَاعِ اَمْرَیْنِ۔السُّقُوْطِ۔وَحُصُوْلِ الصَّوْتِ مِنْہُمْ بِالتَّسْبِیْحِ۔اور خَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا کے الفاظ سے دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔(۱) گرنا (۲) تسبیح کرنے کی وجہ سے آواز کا پیدا ہونا۔(مفردات) نَزَغَہٗ۔طَعَنَ فِیْہِ۔نَزَغَ کے معنے ہیں طعنہ زنی کی۔اِغْتَابَہٗ کسی کی غیبت کی۔وَذَکَرَہٗ بِقَبِیْحٍ۔اور اس کے متعلق بدگوئی کی۔اور نَزَغَ بَیْنَ الْقَوْمِ کے معنی ہیں اَغْرٰی وَاَفْسَدَ وَحَمَلَ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔کہ قوم کے درمیان بگاڑ و فساد ڈالا اور ایک کو دوسرے کے خلاف برانگیختہ کیا۔اور نَزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنَہُمْ انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ شیطان نے ان کے درمیان بگاڑ ڈال دیا۔(اقرب) شَیْطٰنٌ کا لفظ دو مختلف مادوں سے بن سکتا ہے۔(۱) شَطَنَ۔(۲) شَاطَ یا تو یہ شَطَنَ سے فَیْعَالٌ کے وزن پر ہے اور شَطَنَ عَنْہُ کے معنے ہیں اَبْعَدَ دور ہو گیا۔اور شَطَنَ الدَّارُ کے معنے ہیں گھر دور ہو گیا۔پس اس مادہ کے لحاظ سے اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حق سے خود بھی دور ہے اور دوسروں کو بھی دور کرنے والی ہے اور اگر شَاطَ اس کا مادہ مانا جائے تو اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حسد اور تعصب کی وجہ سے جل جائے یا ہلاک ہو