تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 516

جائے۔کیونکہ شَاطَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں اِحْتَرَقَ جل گئی اور شَاطَ فُلَانٌ کے معنی ہیں ھَلَکَ ہلاک ہو گیا۔شَیْطٰنٌ اس سے فَعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ان معنوں کے علاوہ شَیْطٰنٌ کے معنے لغت میں مندرجہ ذیل لکھے ہیں۔رُوْحٌ شَرِیْرٌ۔بدروح۔کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ۔سرکش اور حد سے بڑھنے والا۔اَلْحَیَّۃُ سانپ۔(اقرب) لَطِیْفٌ۔لَطَفَ میں سے بنا ہے جس کے معنے ہیں لَطَفَ بِہٖ وَلَہٗ لُطْفًا۔رَفَقَ بِہٖ۔نرمی کی۔لَطَفَ اللہُ لِلْعَبْدِ وَبِالْعَبْدِ۔رَفَقَ بِہٖ۔اللہ نے بندے پر شفقت کی۔وَاَوْصَلَ اِلَیْہِ مَایُحِبُّ بِرِفْقٍ۔اور اس کی مراد اچھی طرح پوری کردی۔وَفَّقَہٗ۔نیک کام کی توفیق دی۔عَصَمَہٗ۔اس کو شر سے محفوظ رکھا۔لَطُفَ الشَّیْءُ لَطَافَۃً۔صَغُرَ وَدَقَّ۔لَطُفَ الشَّیْءُکے معنے ہیں کہ کوئی چیز چھوٹی اور باریک ہو گئی۔مِنَ الْاَسْمَاءِ الْحُسْنٰی مَعْنَاہُ الْبَرُّ بِعِبَادِہٖ الْمُحْسِنُ اِلٰی خَلْقِہٖ بِاِیْصَالِ الْمَنَافِعِ اِلَیْہِمْ بِرِفْقٍ وَلُطْفٍ اَوِالْعَالِمُ بِخَفَا یَاالْامُوْرِ وَدَقَائِقِہَا۔اور جب لطیف کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ بندوں پر اور مخلوق پر احسان اور شفقت و مہربانی کرنے والا۔اور محبت و احسان کے ساتھ ان کو نفع پہنچانے والا۔مخفی باتوں کو جاننے والا۔(اقرب) تفسیر۔رَفَعَ کے معنے اعلیٰ پایہ کے انسان کے سامنے پیش کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔کہتے ہیں رَفَعَ اِلَی السُّلْطَانِ اَیْ قَرَّبَہٗ۔بادشاہ کے حضور پیش کیا۔رفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ کے دو معنے پس اس آیت کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔اول یہ کہ انہوں نے اپنے والدین کو بادشاہ کے پیش کیا۔بائبل سے انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔دوسرے یہ معنے ہوسکتے ہیں کہ ان کو اپنے تخت پر بٹھایا۔پرانے زمانہ میں رواج تھا کہ نائب سلطنت کے لئے بھی ایک تخت ہوا کرتا تھا۔پس ممکن ہے کہ حضرت یوسفؑ کے لئے بھی ایک تخت مقرر ہو اور حضرت یوسفؑ نے بادشاہ کی اجازت سے ان کو اپنے تخت پر بٹھایا ہو۔وَخَرُّوْالَہُ سُجَّدًا۔خَرَّالْمَاءُ یَخِرُّ خَرِیْرًا۔صَاتَ پانی نے بہتے ہوئے آواز پیدا کی۔وَکَذٰلِکَ الرِّیْحُ وَالْقَصَبُ اسی طرح ہوا کے چلنے اور سرکنڈوں کے ہلنے سے جب آواز پیدا ہو تو خَرّ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اَلْعُقَابُ۔صَاتَ خُفُوْقُ جَنَاحَیْہَا۔عِقَابٌ کے لئے جب خر کا لفظ بولا جائے تو یہ مراد ہوگی کہ اس کے بازوؤں کے ہلنے سے آواز پیدا ہوئی۔اَلنَّائِمُ غَطَّ سونے والے نے اونچی آواز سے خرانٹے لئے۔خَرَّسَاجِدًا۔اِنْکَبَّ عَلَی الْاَرْضِ۔سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر گیا۔وَالْحَجَرُ۔صَوَّتَ مُنْحَدِرًا۔پتھر کے گرنے سے آواز پیدا ہوئی۔(اقرب الموارد)