تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 510

انبیاء کا دو قسم کا علم روحانی اور ظاہری حواس سے الہام کی حقیقت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا علم دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک جو روحانی طور پر انہیں عطا ہوتا ہے اور دوسرا ظاہری حواس سے۔جب کسی الہام کے ذریعہ سے کوئی خبر ملے تو ایمانی طور پر اس کا علم ہوتا ہے۔لیکن وقوعہ کے طورپر نہیں پھر جب ظاہری حواس سے اس خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ایک دوسری قسم کا علم ان کو حاصل ہوتا ہے جس میں دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اسی دوسرے علم کے حصول کے اظہار کے لئےفَارْتَدَّ بَصِيْرًا کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔کیونکہ جب باطنی اور ظاہری حواس دونو ایک خبر کے مصدق ہوں تو علم کامل ہو جاتا ہے۔جب تک ظاہری حواس سے وقوعہ کا علم نہ ہو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شاید آسمانی خبر تعبیر طلب ہو۔یا اس کی کوئی اور توجیہہ ہو۔لیکن جب ظاہر میں بھی خبر پوری ہو جاتی ہے تو انسان کو بصیرت کامل حاصل ہوجاتی ہے اور شبہ کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہتا۔قَالُوْا يٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـِٕيْنَ۰۰۹۸ (تب) انہوں نے (یعنی حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے) کہا اے ہمارے باپ ! آپ ہمارے حق میں (خدا تعالیٰ سے) ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں ہم یقیناً خطا کار ہیں۔تفسیر۔جب تک انسان کا گناہ بخشا نہیں جاتا اس کے دل پر اس کا اثر رہتا ہے۔چنانچہ یوسف کے بھائیوں سے اس وقت تک ایسی حرکات سرزد ہوتی رہی ہیں جو قلب کی صفائی کے نقص پر دلالت کرتی تھیں۔لیکن جب حضرت یوسفؑ کی طرف سے لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ کہا گیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے عفو کے ساتھ اپنے عفو کو شامل کر دیا تو یوسفؑ کے بھائیوں کی بھی حالت بدل گئی اور انہوں نے اپنی توبہ کو کافی نہ سمجھ کر اپنے باپ سے بھی درخواست کی کہ تو ہمارے لئے خدا سے استغفار طلب کر۔عام طور پر ایسے موقع پر لوگ کہا کرتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف کر دیں مگر اب وہ یہ نہیں کہتے کہ تو ہمیں معاف کر بلکہ یہ کہتے ہیں کہ تو ہمارے لئے خدا سے مغفرت طلب کر۔کیونکہ توبہ کے ساتھ ہی ان کے دل پر یہ روشن ہو گیا ہے کہ انسانی سزا یا ناراضگی خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مقابل پر کوئی شے نہیں اس لئے سب سے پہلے انہیں خدا تعالیٰ سے صلح کرنی چاہیے اور اس کے نبی کے توسط سے اس کا عفو طلب کرنا چاہیے۔اس درخواست میں حضرت یعقوبؑ کی معافی خود ہی آگئی کیونکہ خدا تعالیٰ سے ان کے لئے معافی وہ تب ہی طلب کرسکتے تھے جبکہ خود معاف کرچکے ہوں۔