تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 509
تَعْلَمُوْنَ۰۰۹۷ نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں یقیناً اللہ (تعالیٰ) کی طرف سے (علم پا کر وہ کچھ) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔حلّ لُغَات۔اِرْتَدَّ اِرْتَدَّ عَلٰی اَثَرِہٖ۔رَجَعَ اِرْتَدَّ عَلٰی اَثَرِہٖ کے معنے ہیں اپنے نشان پر واپس لوٹا۔الٰی حَالِہِ عَادَ۔اپنی اصلی حالت پر آگیا وَفِی الْقُرْاٰنِ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا اَیْ عَادَ بَصِیْرًا بَعْدَ الْعَمٰی اور قرآن مجید کی آیت فَارْتَدَّ بَصِيْرًا کے معنے ہیں ناواقفیت کے بعد پھر صاحب بصیرت اور صاحبِ علم ہو گیا۔بَصِیْرًا۔بَصُرَ بِہٖ وَبَصِرَ بَصَارَۃً وَبَصَرًا: عَلِمَ بِہٖ جب بَصُرَ کے ساتھ ب کا صلہ آئے یا اس کا مصدر بَصَارَۃٌ اور بَصَرَ ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کے متعلق اس کو اچھی طرح علم اور واقفیت حاصل ہو گئی۔بَصِیْرٌ:اَلْبَصِیْرُ رَجُلٌ بَصِیْرٌ بِکَذَا۔عَالِمٌ بِہٖ خَبِیْرٌ۔رَجُلٌ بَصِیْرٌ کے معنے ہوتے ہیں کہ خوب واقف کار عالم آدمی (اقرب) پس اِرْتَدَّ بَصِیْرًا کے معنے ہوں گے کہ حضرت یعقوبؑ حضرت یوسفؑ کے معاملہ میں اچھی طرح صاحب بصیرت ہو گئے۔تفسیر۔اَلْقٰی عَلٰی وَجْہِہٖ کے معنے اَلْقٰی عَلٰی وَجْہِہٖ کے ظاہری معنے تو یہی ہیں کہ ان کے منہ پر ڈال دی لیکن قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جو کچھ ظاہر ہوا حضرت یوسفؑ کا معجزہ نہ تھا بلکہ حضرت یعقوبؑ کا۔ورنہ قمیص سے آنکھیں اچھی ہونے پر انہیں چاہیے تھا کہ کہتے کہ دیکھو یوسفؑ نے کتنا بڑا معجزہ دکھایا ہے کہ اس کی قمیص سے میری آنکھیں اچھی ہو گئی ہیں۔مگر وہ قمیص ڈالنے کے نتیجہ میں کہتے یہ ہیں کہ دیکھو میری بات سچی ہو گئی کہ یوسفؑ زندہ ہے۔قمیص کے سامنے آنے سے الہامی علم واقعاتی بن گیا پس اس سے ظاہر ہے کہ مطلب آیت کا یہی ہے کہ جب یوسفؑ کی قمیص حضرت یعقوبؑ کے سامنے رکھی گئی تو جو علم پہلے الہامی تھا اب وہ واقعاتی بن گیااور حضرت یعقوبؑ نے جیسا کہ انبیاء کی سنت ہے اپنی خوشی کو بھول کر اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنی شروع کردی کہ دیکھو جو خدا تعالیٰ نے کہا وہ سچ نکلا۔اِرْتَدَّ بَصِیْرًا اندھے پن سے بینا ہونا مراد نہیں اِرْتَدَّ بَصِیْرًا سے یہ مراد نہیں کہ اندھے تھے پھر بینا ہوگئے بلکہ یہ کہ جس امر کو پہلے ایمان سے تسلیم کرتے تھے اب ظاہری علم کے ماتحت امرواقع کی طرح اس کو ماننے لگ گئے۔