تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 488

اَلنَّجِیُّ۔اَلسِّرُ۔نَجِیٌّ کے معنی ہیں۔راز۔مَنْ تَسَارُہُ۔رازدار۔وَقَدْ یَکُوْنُ لِلْجَمْعِ اَیْضًا مِثْلَ الصَّدِیْقِ۔یہ لفظ رازداروں کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔وَمِنْہُ خَلَصُوْا نَجِیًّا۔اَیْ مُتَنَاجِیْنَ۔اور خَلَصُوْا نَجِیًّا انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ ایک دوسرے سے راز کی باتیں کہتے ہوئے الگ ہوئے۔قَالَ الْفَرَّآءُ قَدْ یَکُوْنُ النَّجِیُّ وَالنَّجْوٰی اِسْمًا وَمَصْدَرًا اور فَرَّاء کے نزدیک نَـجِیٌّ اور نَـجْوٰی کا لفظ کبھی تو اسم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی مصدر کے معنوں میں۔یعنی راز کی باتیں یا راز کی باتیں کرنا۔اَلْمُحَدِّثُ راز کی باتیں کرنے والا۔بات سنانے والا۔اَلسَّرِیْعُ تیز۔(اقرب) خَلَصُوْا نَجِیًّا۔اَیْ اِنْفَرَدُوْا خَالِصِیْنَ عَنْ غَیْرِھِمْ خَلَصُوْا نَجِیًّا کے معنے ہیں دوسروں سے علیحدہ ہوئے۔(مفردات) کَبِیْرُھُمْ۔فُلَانٌ کَبِیْرٌ۔اَیْ مُسِنٌّ۔کَبِیْرٌ کے معنے ہیں عمر میں بڑا۔اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمْ اَیْ رَئِیْسُکُمْ اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمْ کے معنے ہیں رفعت و منزلت کی رو سے بڑا سردار۔(مفردات) اَلْمِیْثَاقُ۔عَقْدٌ مُؤَکَّدٌ بِیَمِیْنٍ وَعَھْدٍ۔میثاق کے معنے ہیں ایسا عہد کرنا جو قسم سے مؤکد ہو۔وَالْمَوْثِقُ اَلْاِسْمُ مِنْہُ اور موثق کے معنے ہیں وہ عہد جو قسم سے مؤکد کیا گیا ہو۔(مفردات) فَرَّطْتُّمْ۔فَرَّطَ الشَّیْءَ وفَرَّطَ فِیْہِ۔ضَیَّعَہٗ وَقَدَّمَ الْعَجَزَ فِیْہِ۔فَرَّطَ جب بغیر صلہ کے یا فی کے صلہ کے ساتھ استعمال ہو تو ا سکے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو ضائع کر دیاا ور اس کی حفاظت اور بچاؤ کے سامان سے پوری طرح کام نہ لیا۔فَرَّطَ فِیْہِ۔قَصَّرَ فِیْہِ۔کوتاہی کی۔(اقرب) اور فَرَّطْتُّمْ کے معنے ہوں گے تم نے کوتاہی کی۔لَنْ اَبْرَحَ۔لَنْ اَبْرَحَ مَابَرِحَ فُلَانٌ کَرِیْمًا۔اَیْ بَقِیَ عَلَی کَرَمِہِ اَبْرَحُ۔بَرِحَ سے مضارع متکلّم کا صیغہ ہے اور مَا بَرِحَ فلَانٌ کَرِیمًا کے معنے ہیں اپنی سخاوت پر قائم رہا۔(اقرب) بَرِحَ اور زَالَمیں نفی کے معنے پائے جاتے ہیں بَرِحَ وَزَالَ اِقْتَضَیَا مَعْنَی النَّفْیِ وَلَا لِلنَّفْیِ وَالنَّفْیَانِ یَحْصُلُ مِنْ اِجْتِمَاعِھِمَا اِثْبَاتٌ۔بَرِحَ اور زَالَ کے اندر نفی کے معنے پائے جاتے ہیں کیونکہ کسی جگہ سے چلے جانے کے مفہوم میں نہ موجود رہنا بھی داخل ہے جو نفی پر مشتمل ہے۔پس جب ان پر مَا یا لَا وغیرہ کوئی کلمہ داخل ہوگا تو نفی پر نفی داخل ہونے کی وجہ سے ان میں اثبات کے معنے یعنی کسی جگہ پر موجود رہنے کے معنے پیدا ہوجاتے ہیں۔(مفردات) پس لَنْ اَبْرَحَ کے معنے ہوںگے کہ میں اس ملک کو نہیں چھوڑوں گا بلکہ وہیں رہوں گا۔تفسیر۔وہی بھائی جو مجلس میں یوسف پر چوری کا الزام لگا رہے تھے الگ ہوکر اپنے جرم کے شریکوں کے سامنے صاف اقرار کررہے ہیںکہ یوسفؑ کے بارہ میں ہم سے غلطی ہوئی تھی خدا کی شان ہے یوسف علیہ السلام ایسے مرتبہ پر فائز تھے کہ بھائیوں کے لئے ان کا پہچاننا ناممکن ہو گیا تھا۔ورنہ یہ جانتے ہوئے کہ یہی یوسفؑ ہے وہ کب ا