تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 487
بائبل کے نزدیک بھی ظلم ہے۔فَلَمَّا اسْتَيْـَٔسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا١ؕ قَالَ كَبِيْرُهُمْ پس جب وہ اس سے( یعنی یوسف سے) ناامید ہو گئے تو آپس میں باتیں کرتے ہوئے (لوگوں سے) الگ ہو گئے اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ (تب) ان میں سے بڑے نے کہا (کہ) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے پکا قول لیا( ہوا) ہے جو اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ اللہ(تعالیٰ کی قسم) سے (مؤکد )ہے اور یہ کہ( اس سے )پہلے تم یوسف کے بارہ میں( بھی) کوتاہی کر چکے ہو۔اس الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْۤ اَبِيْۤ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ١ۚ وَ هُوَ لئے جب تک میرا باپ مجھے(خاص طور پر) اجازت( نہ) دے یا (خود)اللہ (تعالیٰ) میرے حق میں فیصلہ (کی خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۰۰۸۱ کوئی راہ پیدا نہ )کرے میں اس ملک کو نہیںچھوڑوں گا۔اور وہ( یعنی اللہ تعالیٰ) سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر (فیصلہ کرنے والا) ہے۔حلّ لُغَات۔اِسْتَیْئَسُوْا۔یَئِسَ قَنَطَ وَاسَتَیْئَسَ بمعنے یَئِسَ۔یَئِسَ اور اِسْتَیْئَسَ کے معنی ہیں بالکل مایوس و ناامید ہو گیا اور اِسْتَیْئَسُوْا۔اِسْتَیْئَسَ سے جمع کا صیغہ ہے جس کے معنے ہوئے وہ ناامید ہو گئے۔(اقرب) خَلَصَ اِلَیْہِ وَبِہِ الشَّیْءُ کے معنے ہیں وَصَلَ کہ کوئی چیز کسی تک پہنچی۔(اقرب) پس خَلَصُوْا نَجِیًّا کے معنے ہوں گے کہ وہ باتیں کرتے ہوئے کسی الگ جگہ پہنچے۔اَلنَّجِیُّ۔اَلسِّرُ۔نَجِیٌّ کے معنی ہیں۔راز۔مَنْ تَسَارُہُ۔رازدار۔وَقَدْ یَکُوْنُ لِلْجَمْعِ اَیْضًا مِثْلَ الصَّدِیْقِ۔یہ لفظ رازداروں کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔وَمِنْہُ خَلَصُوْا نَجِیًّا۔اَیْ مُتَنَاجِیْنَ۔اور خَلَصُوْا نَجِیًّا انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ ایک دوسرے سے راز کی باتیں کہتے ہوئے الگ ہوئے۔قَالَ