تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 489
اس جھوٹ کے مرتکب ہوسکتے تھے۔بڑے بھائی کے دل میں خشیت اللہ تھی كَبِيْرُهُمْ جس بھائی کی نسبت آیا ہے معلوم ہوتا ہے اس کے دل میں کسی قدر خشیت اللہ تھی۔کیونکہ ایک تو وہ اپنے باپ سے غداری کرنے سے بھائیوں کو ڈراتا ہے دوسرے اپنے عہد کی پابندی پر مصر ہوا ہے کہ جب تک میرا باپ اجازت نہ دے یا خدا تعالیٰ ہی کوئی فیصلہ کردے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے مراد ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں یہ ہو کہ کسی طرح بن یامین آزاد ہو جائیں اور میں ان کو ساتھ لے کر واپس چلا جاؤں۔حضرت یوسف کے سب سے بڑے بھائی کا نام روبن تھا اور بائبل کی رو سے جس بھائی نے اس موقع پر گھر واپس جانے سے انکار کیا ہے وہ یہودا تھے(پیدائش باب ۲۹ و ۴۴) جو بھائیوں میں سے چوتھے درجہ پر تھے۔مسیحی مصنفین کا اعتراض لفظ ’’کبیر‘‘ پر مسیحی مصنف اس جگہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کے مصنف کو تاریخ کا بھی علم نہیں(A Comprehensive Commentary on Holy Quran by Wherry under verse 80 chapter 12)۔وہ یہودا کی بات کو روبن کی طرف منسوب کررہا ہے۔مجھے مسیحی مصنفوں کے ایسے اعتراضوں پر ہمیشہ تعجب آیا کرتا ہے۔وہ یوں بائبل کا ذکر کرتے ہیں گویا وہ سب سے زیادہ مستند تاریخی کتاب ہے۔بائبل کی شہادت سے قرآن کریم پر اعتراض نہیں ہوسکتا حالانکہ خود مسیحی لٹریچر ان دلائل سے بھرا پڑا ہے جو تاریخی طورپر بائبل کے رتبہ کو بہت گرا دیتے ہیں۔پرانی تاریخ تو الگ رہی موسیٰ ؑ کی کتب میں موسیٰ کے سفروں کے جو حالات درج ہیں مسیحی محققین خود ان کی صحت کے قائل نہیں اور جغرافیہ اور اس زمانہ کی دوسری تاریخوں سے اور خود بائبل کی اندرونی شہادتوں سے ان حالات کو خلاف واقع ظاہر کرتے ہیں۔ایسی کتاب کی روایت پر قرآن کریم پر اعتراض قابل تعجب ہے۔ہم بے شک بائبل کی بعض روایات کو تاریخی شہادت کے طور پر نقل کرتے ہیں لیکن اسی وقت جبکہ وہ عقل اور دوسری تاریخ یا قرآن کریم کے مطابق ہوں ورنہ بائبل میں اس قدر دست برد ہوچکی ہے کہ اس کی تاریخ بھی محفوظ نہیں کہی جاسکتی۔پس ان حالات میں بائبل کی شہادت پر قرآن کریم پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا جس کے یہودی تاریخ کے بتائے ہوئے واقعات اس وقت تحقیق سے صحیح ثابت ہورہے ہیں جبکہ یہودی تاریخ کے بیانات غلط ثابت ہو رہے ہیںمثلاً ہارون کا بچھڑے کو پوجنا۔فرعونِ موسیٰ ؑ کی لاش کا محفوظ رہنا وغیرہ۔قرآن کریم میں کَبِیْرُھُمْ ہے نہ کہ اَکْبَرُھُمْ لیکن اگر ہم اس بارہ میں توریت کے بیان کو صحیح سمجھ