تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 37

تفسیر۔موعود چیز کیا ہے وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا اصل میں وعدکم اللہ وعدا حقا ہے۔فعل کو محذوف کرکے مصدر کو فاعل کی طرف مضاف کر دیا گیا ہے۔پس اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے ایک پختہ وعدہ کیا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک تو انسان کو اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اسے اپنی ظاہری آزادی کو دیکھ کر دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔آخر اس کا واسطہ اللہ تعالیٰ سے پڑے گا۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہی آخر میں کامیاب ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قرب کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذریات:۵۷) جن و انسان کو میں نے صرف اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی وعدہ کی طرف وَعْدَاللہِ حَقًّا میں اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ آخرکار سب انسان اللہ تعالیٰ کو پالیں گے اور نبیوں کی بعثت کی اصل غرض پوری ہوکر رہے گی۔اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ میں بھی دونو طرف اشارہ ہے اس طرف بھی کہ مرنے کے بعد انسان کو اللہ تعالیٰ پھر زندگی دے گا اور اس طرف بھی کہ اللہ تعالیٰ نئی نئی مخلوق پیدا کرتا چلا جاتا ہے تاکہ نیکوں کے کام ضائع نہ ہوں۔کیونکہ اگر کوئی خیر کا کام کرے اور اس کے بعد کوئی مخلوق نہ ہو تو اس کے کام سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ مخلوق پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور پچھلے لوگ پہلوں کے کام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پہلوں کے لئے ثواب کا موجب بنتے ہیں۔صالح کے معنی اور ایک اہم نکتہ اس آیۃ میں جو عمل صالح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں فردی اور قومی ترقی کا ایک بہت بڑا نکتہ ہے۔لوگ اس کا ترجمہ نیک عمل کرتے ہیں مگر اس کے معنی نیک عمل کے نہیں ہیں۔بلکہ نیک اور مناسب حال عمل کے ہیں۔یعنی عمل نیک بھی ہو اور ہو بھی موقع کے مطابق۔مثلاً یہ نہ ہو کہ جہاد کے لئے جارہا ہو اور روزے رکھنے لگے۔روزے ایک نیک عمل ہیں مگر جہاد کو جاتے وقت مناسب حال عمل نہیں ہیں۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہاد کے موقع پر فرمایا کہ آج بے روزہ، روزےداروں سے بڑھ گئے کیونکہ روزہ دار بوجہ روزہ کی تکلیف کے کیمپ کا انتظام نہ کرسکے اور بے روزوں نے فوراً کیمپ کو تیار کرلیا اور حق یہ ہے کہ فردی اور قومی ترقی ہر عمل خیر سے نہیں ہوتی بلکہ عمل صالح سے ہوتی ہے۔مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا اور جس وقت اسلام کو سخت جہاد عقلی کی ضرورت تھی اس وقت ان کے مذہبی آدمی مصلے بچھا کر اور تسبیحیں پکڑ کر گھروں میں بیٹھے رہے اور ان اعمال سے غافل رہے جو کہ قومی ترقی کے لئے ضروری تھے۔ان کا کام تھا کہ مسلمانوں میں عملی قوت پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور ان کے اخلاق کو درست کرتے اور علوم جدیدہ کے حاصل کرنے کی ترغیب دیتے اور ان میں اتحاد عمل پیدا کرتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی نمازیں اور روزے اسلام اور مسلمانوں کو ہلاکت