تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 36

دوسرا مصدر اس کا رجوع ہے جو عام طور پر اردو میں استعمال ہوتا ہے۔بَدَ ءَ یَبْدَءُ بَدَءَ سے ہے۔اور اس کے مختلف معنے ہیں۔بَدَءَ بِالشَّیءِ اِفْتَتَحَہٗ۔کسی چیز کا افتتاح کیا۔بَدَءَ بِفُلَانٍ قَدَّمَہٗ فلاں شخص کی طرف پہلے متوجہ ہوا یا اس کا کام پہلے کیا۔بَدَءَ الشَّیءَ اَخَذَ فِیْہِ اَوْقَدَّمَہُ فِی الْفِعْلِ۔یعنی اس کام کو کرنے لگا یا اس کو اور کاموں سے پہلے کرنا شروع کیا۔بَدَءَ الشَّیءَ أَنْشَاَہٗ وَاخْتَرَعَہٗ۔اس چیز کو پیدا کیا اور اس کو ایجاد کیا۔بَدَءَ اللہُ تَعَالیٰ الْخَلْقَ خَلَقَھُمْ مخلوق کو پیدا کیا۔بَدَءَ مِنْ اَرْضِہٖ۔خَرَجَ لِأَرْضٍ أُخْرَی وَتَغَرَّبَ اپنی زمین سے نکل گیا اور دوسرے ملکوں میں چلا گیا۔(اقرب) خَلْقٌ اَلْخَلْقُ اَلْفِطْرَۃُ۔پیدا کرنا۔اَلنَّاسُ۔لوگ (اقرب) اَلْمَخْلُوْقُ۔خلق کے معنی مخلوق کے بھی ہوتے ہیں (مفردات) یُعِیْدُہٗ اَعَادَہٗ سے ہے اس کے معنے ہیں اَرْجَعَہٗ اسے لوٹا دیا۔اَلْکَلَام کَرَّرہٗ جب کلام کے متعلق آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیںاسے دہرایا فُلَانٌ لَا یُعِیْدُ وَلَا یُبْدِئُی اِذَا لَمْ تَکُنْ لَہٗ حِیْلَۃٌ۔کہتے ہیں فُلَانٌ لَا یُعِیْدُ وَلَا یُبْدیُ جب وہ بالکل بے بس ہو۔(اقرب) صَلُحَ اَ لصَّالِحَاتُ صَالِحٌ کی جمع ہے۔جو صَلح سے نکلا ہے۔صَالِحٌ کے معنی ہوتے ہیں فساد سے پاک اور بامصلحت مناسب حال۔قِسْطٌ اَلْقِسْطُ الْعَدْلُ۔قِسْطٌ کے معنی عدل و انصاف کے ہوتے ہیں اور یہ ان مصادر میں سے ہے جنہیں صفت کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔کہتے ہیں۔رَجُلٌ قِسْطٌ انصاف والا آدمی اور یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں کی صفت کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔اَلْحِصَّۃُ وَالنَّصِیْبُ اس کے معنی حصہ اور نصیب کے بھی ہوتے ہیں۔اور نصف صاع کے وزن کو بھی قِسْطٌ کہتے ہیں۔(اقرب) شَرَابٌ اَلشَّرَابُ کُلُّ مَا یُشْرَبُ مِنَ الْمَائِعَاتِ حَلَالًا کَانَ اَوْحَرَامًا (اقرب) ہر پینے کی چیز خواہ حلال ہو یا حرام۔حَمِیْمٌ اَلْـحَمِیْمُ اَلْقَرِیْبُ الَّذِیْ تَہْتَمُّ بِاَمْرِہٖ۔وہ قریبی جس کی ضروریات کے تم کفیل ہوتے ہو۔اَلصَّدِیْقُ۔دوست۔اَحْمَاءُ اس کی جمع ہے اور اس کے معنی اَلْمَاءُ الْحَارُّ اور اَلْمَاءُ الْبَارِدُ کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی گرم پانی کے بھی ہوتے ہیں اور سرد پانی کے بھی۔اس وقت اس کی جمع حَمَائِمُ آتی ہے۔اسی طرح اس کے معنی اَلْقَیْظُ یعنی سخت گرمی اور اَلْمَطْرُالَّذِیْ یَأْتِی بَعْدَ اِشْتِدَادِ الْحَرِّ۔وہ بارش جو سخت گرمی کے بعد آئے۔اور اَلْعَرَقُ پسینہ بھی ہیں۔(اقرب)