تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 38
سے نہ بچا سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ عمل صالح کے نتیجہ میں کامیابی ملتی ہے۔اور ان لوگوں کے اعمال گو مذہب کے مطابق تھے مگر مناسب حال نہ تھے پس خدا تعالیٰ کا قانون توڑنے کی وجہ سے انہوں نے بھی اور دوسرے سب مسلمانوں نے بھی نقصان اٹھایا۔هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ وہی ہے جس نے سورج کو ذاتی روشنی( والا) اور چاند کو نور( والا) بنایاہے اور ایک اندازہ کے مطابق مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اس کی منزلیں بنائی ہیں تاکہ تمہیں سالوں کی گنتی اور حساب معلوم ہو۔اس (سلسلہ )کو اللہ( تعالیٰ) نے اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۰۰۶ حق ( وحکمت )کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے وہ ان آیات کو علم والے لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔حلّ لُغات۔ضِیَآءٌ کو عربی محاورہ کے لحاظ سے نور سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔دوسرے ضیاء اور ضوء اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنی ذات میں روشن ہوتی ہے اور نور کا لفظ اس چیز پر بولا جاتا ہے جس کی روشنی غیر سے حاصل شدہ ہو (اقرب) ضِیَاءٌ ضَآءَ کا مصدر بھی ہے جس کے معنی روشن کر دینے یا روشن ہونے (متعدی و لازم) کے ہوتے ہیں۔اور ضِیَاءٌ جمع بھی ہے ضَوْءٌ کی۔جیسے سَوْطٌ کی جمع سِیَاطٌ (اقرب) نُوْرٌ کے معنی اس فرق کے علاوہ جو اوپر ذکر ہوچکا ہے یعنی وہ روشنی جو کسی چیز سے مکتسب ہو اور بھی کئی آتے ہیں۔(۱) ظُلُمٰتٌ کے خلاف کا نام نُوْرٌ ہے اور کبھی یہ لفظ ضِیَاءٌ کے معنوں میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا (الاحزاب:۴۷ ) (۲) نورِ ضیاء کی شعاع کو بھی کہتے ہیں۔یعنی جو چیز اپنی ذات میں روشن ہے اس کی روشنی کے انعکاس کو بھی نور کہتے ہیں۔(۳) اور نور ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے دوسری چیزیں نظرآنے لگ جائیں۔یعنی مُنَوَّرٌ جیسے فرمایا۔اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (النور:۳۶)(۴) ہر وہ چیز جس سے دوسری چیزوں کی پوری حقیقت کھل جائے۔اس کو بھی نور کہہ دیتے ہیں۔(۵) اور نور کے معنی وَسْمٌ کے بھی ہیں یعنی رونق کے۔ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں کے چہرہ پر بڑا نور ہے۔یعنی آثار برکت و عزت ہیں۔(اقرب)