تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 438

اللّٰهِ عَلَيْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ۰۰۳۹ کا (اس کے خاص فضلوں میں سے) ایک فضل ہے لیکن اکثر لوگ (اس کے احسانوں کا) شکر نہیں کرتے۔تفسیر۔تعلق باللہ کے دروازہ کا کھلا ہونا بہت بڑا فضل الٰہی ہے یعنی جس مذہب پر میں ہوں اس کے ذریعہ سے ہمیشہ سے لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق پید اکرتے چلے آئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایسا راستہ بندہ کے لئے کھلا رکھا ہے لیکن افسوس کہ اللہ تعالیٰ کے احسان کی لوگ قدر نہیں کرتے۔نبی بھیجنے کا انعام تمام قوم کے لئے ہوتا ہے عَلَيْنَا وَ عَلَى النَّاسِ کہہ کر بتایا ہے کہ نبوت کا انعام صرف اسی شخص کے لئے نہیں ہوتا جسے نبوت ملے بلکہ درحقیقت وہ سب دنیا کے لئے ہوتا ہے۔سب ہی علیٰ قدرمراتب اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔حتیٰ کہ اگر غور کیا جائے تو کافر بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔نبی کے بعد کئی فضول عقائد جن کو وہ رد کرتا ہے یہ لوگ ترک کردیتے ہیں۔گو نبی کی صداقت کا انکار ہی کرتے رہیں۔يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ۠ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ اے( میرے) قید خانہ کے دونوں ساتھیو۔کیا( ایک دوسرے سے) اختلاف رکھنے والے خدا بہتر ہیں یا اللہ( تعالیٰ) الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ۰۰۴۰ جو یکتا(اور) کامل غلبہ رکھنے والا ہے۔حل لغات۔قَھَرَ قَھَّارٌکا لفظ قَھَرَ میں سے اسم فاعل کا صیغہ مبالغہ ہے۔قَھَرَہٗ قَھْرًا غَلَبَہٗ فَھُوَ قَاھِرٌ۔اس پر غالب ہوا۔وَتَقُوْلُ اَخَذْتُہُمْ قَھْرًا اَیْ مِنْ غَیْرِ رِضَاھُمْ۔اور اَخَذْتُہُمْ قَہْرًا کے معنے ہیں بغیر ان کی مرضی کے زبردستی ان کو پکڑ لیا۔اَلْقَہَّارُ فَعَّالٌ لِلْمُبَالَغَۃِ وَاِسْمٌ مِنَ الْاَسْمَاءِ الْحُسْنٰی۔قَھَّار اسم فاعل سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے بھی ہے۔تفسیر۔قید کی حالت میں یوسف کا اللہ تعالیٰ کی صفت احسان کے ذکر پر زور دینا فرمایا کہ دنیا میں غلبہ جتھے کے ساتھ ہوا کرتا ہے مگر میرے رب کا معاملہ بالکل نرالا ہے۔وہ اکیلا بھی ہے اور ساتھ ہی غالب۔بلکہ بڑا غالب بھی۔