تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 437
وہ گھبرائیں گے اس لئے پہلے انہیں تسلی دے دی کہ میں زیادہ وقت نہیں لوں گا بلکہ کھانا آنے سے پہلے ہی تم کو فارغ کردو ںگا۔یہ اس لئے کیا کہ وہ گھبرا نہ جائیں اور غور سے سنتے رہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بھی قیدیوں کو کھانے سے پہلے کچھ رخصت ملا کرتی تھی تا وہ آپس میں بات چیت کرلیں جیسا کہ آج کل بھی دستور ہے۔بارھویں مشابہت آنحضرت ؐ نے بھی کفار مکہ کو کھانے کے موقع پر تبلیغ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام سے مشابہت ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کو تبلیغ کا موقع نہیں ملتا تھا۔انہوں نے ان کے سوال کو غنیمت جانا اور سمجھ لیا کہ ان کی ضرورت کے پورا ہونے سے پہلے تبلیغ کروں گا تو یہ سننے پر مجبور ہوں گے۔ایسا ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔آپ ابتداء دعویٰ میں اَعیانِ مکہ کو تبلیغ کرنا چاہتے تو وہ لوگ کترا جاتے اور تبلیغ نہ سنتے۔آخر آپؐ نے ان لوگوں کی دعوت کی اور کھانا کھلا کر تبلیغ کرنی چاہی مگر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔اس پر آپؐ نے یہ تدبیر کی کہ پھر دعوت کی اور کھانا آنے سے پہلے ان کو اپنے دعویٰ سے آگاہ کر دیا۔وہ لوگ کھانے کے انتظار میں بیٹھنے پر مجبور تھے اس لئے آپ کو اپنی بات سنانے کا موقع مل گیا۔وعظ و نصیحت کو مخاطب کے ملال کا موجب نہ بننے دینا چاہیے اس آیت سے انبیاء کے وعظ کا طریق بھی معلوم ہوتا ہے۔پس ان کی اتباع میں وعظ و نصیحت کرتے وقت ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بات کہی بھی جائے اور دوسرے پر گراں بھی نہ گزرے۔مذہب وہی سچا ہے جو ہر وقت تازہ پھل دے ’’یہ وہ علم ہے جو مجھے خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے۔‘‘ کہہ کر حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ ثبوت دیا ہے کہ جس مذہب پر میں کاربند ہوں وہی سچا ہے کیونکہ اس کے تازہ پھل انسان کو ملتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ١ؕ مَا اور میں نے اپنے باپ دادوں یعنی ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کی پیروی( اختیار) کی ہے۔ہمیں کسی چیز کو بھی كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللہ (تعالیٰ)کا شریک ٹھہرانے کا حق نہیں ہے یہ (توحید کی تعلیم کا ملنا) ہم پر اور (دوسرے )لوگوں پر اللہ( تعالیٰ)