تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 436
میں سمجھتے ہیں۔قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْلِهٖ اس نے کہا (کہ) جو کھانا تمہیں (اب) دیا جانے والا ہے وہ اس حالت میں ہی تمہارے پاس آئے گا کہ تمہارے قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ١ؕ اِنِّيْ تَرَكْتُ پاس اس کے پہنچنے سے پہلے میں تمہیں اس (خواب) کی حقیقت بتاچکا ہوں گا یہ( تعبیر رؤیا کی اہلیت مجھ میں) اس مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ وجہ سے (پائی جاتی) ہے کہ میرے رب نے مجھے علم بخشا ہے۔میں نے ان لوگوں کے دین کو جو اللہ (تعالیٰ) پر ایمان كٰفِرُوْنَ۰۰۳۸ نہیں رکھتے اور وہ آخرت کے (بھی) منکر ہیں چھوڑ دیا ہوا ہے۔حلّ لُغَات۔نَبَّأَ نَبَّأَہُ الْخَبَرَ وَبِالْخَبَرِ: خَبَّرَہٗ۔خبر دی۔آگاہ کیا۔وَیُقَالُ نَبَّأْتُ زَیْدًا عَمْرًا مُنْطَلِقًا۔بتایا۔علم دیا۔اَلنَّبَأُ الْخَبْرُ۔خبر۔وَقَالَ فِی الْکُلِّیَّاتِ اَلنَّبَأُ وَالْاَنْبَاءُ لَمْ یَرِدَا فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا لِمَا لَہٗ وَقْعٌ وَشَانٌ عَظِیْمٌ۔اور کلیات ابوالبقاء میں ہے کہ نَبَأَ کا لفظ یا اَنْبَٓاءُ کا لفظ جہاں بھی قرآن کریم میں آیا ہے کسی ذی عظمت اور ذی شان چیز یا بات کی خبر کے متعلق ہی آیا ہے۔(اقرب) ذٰلِکُمَا ذٰلِکُمَابھی ذٰلِکَ کی طرح بعید کے لئے اسم اشارہ ہے۔فرق ان میں صرف یہ ہے کہ ذٰلِکُمَا سے صرف اسی موقع پر اشارہ کیا جاتا ہے جب مخاطب دو شخص ہوں اور ذٰلِکَ کا استعمال وسیع ہے جو واحد شخص کو مخاطب کرتے وقت بھی بولا جاتاہے اور کثیر کو مخاطب کرتے ہوئے بھی۔یہ لفظ دراصل تین لفظوں سے مرکب ہے یعنے ذا،لام اور کاف سے۔ذَا اسم اشارہ ہے۔لام جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو اس کے مقام یا درجہ کے بُعد پر دلالت کرتا ہے اور کاف مخاطب کی علامت ہے۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یوسف ؑ کا ان قیدیوں کو تسلی دینا کہ میں زیادہ وقت نہیں لوں گا حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے میں عجیب حکمت سے کام لیا ہے۔چونکہ خطرہ تھا کہ تبلیغ کرنے پر