تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 423
تو اس نے ساتھ ہی یہ بھی دیکھ لیا ہوگا کہ کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔پس ظاہر ہے کہ اس شخص نے عزیز کی بیوی کے لحاظ سے صاف طور پر یہ نہیں کہا کہ اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے پس یہ مجرم نہیں بلکہ اس طرح بات کی ہے کہ گویا ایک قاعدہ بتارہا ہے تاکہ عزیز کی بیوی اس پر ناراض نہ ہو۔عزیز کی بیوی کانام عزیز کی بیوی کا نام مسلمانوں کی کتب میں زلیخا لکھا ہے۔بائبل میں اس کا نام نہیں آتا۔لیکن یہود کی روایات کی کتاب یعنی طالمود میں اس کا نام زلیخا ہی لکھا ہے(Talmud by H۔Palano p۔80 Chapter iv)۔معلوم ہوتا ہے کہ انہی سے مسلمان مفسرین نے نقل کیا ہے۔فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ پس جب اس (کے خاوند) نے اس کے (یعنی یوسف کے) کُرتے کو دیکھا کہ پیچھے سے پھاڑا گیا ہے تو اس نے كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۰۰۲۹ (اپنی بیوی سے )کہا یہ (جھگڑا) یقیناً تمہاری چالاکی سے (پیدا ہوا) ہے تم عورتوں کی چالاکی یقیناً بہت بڑی (ہوتی) ہے۔تفسیر۔یہ عزیز کا کلام معلوم ہوتا ہے اس شاہد کے توجہ دلانے پر اس نے کرتہ جب پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو حقیقت کو سمجھ گیا اور بیوی سے صاف کہہ دیا کہ یہ تیری چالاکی ہے۔عورتیں گہری تدبیریں نسبتاً زیادہ کیوں کرتی ہیں اس آیت سے بعض لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ عورتیں خاص طور پر مکار ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتیں بوجہ ان مظالم کے جو ان پر کئے جاتے ہیں گہری تدابیر کی زیادہ عادی ہوتی ہیں اور بات کا پھرانا ان کا خاص فن ہوگیا ہے مگر اس کا سبب ان کے حقوق کااتلاف ہے جن قوموں یا گھرانوں میں عورتوں کے حقوق پورے طور پر ادا ہوتے ہوں ان کی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں اس کے برعکس جو اقوام ظالموں کے تصرف میں ہوتی ہیں ان کے مرد بھی اس مزاج کے ہوجاتے ہیں۔پس یہ مادہ عورت سے مخصوص نہیں بلکہ ظلم کا نتیجہ ہوتا ہے اور مرد اور عورت دونوں اس میں شریک ہوتے ہیں۔یہ خدائی فیصلہ نہیں بلکہ عزیز کا قول ہے علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول نہیں ہے بلکہ عزیز کا قول ہے اور اس کا قول ہم پر حجت نہیں ہے اس نے غصہ کی حالت میں یہ بات کہہ دی ہے کہ عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں اور جو لوگ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتے وہ ہمیشہ ایسی باتیں کہہ دیا کرتے ہیں۔