تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 422

وَاِمَّا اَنْ یُّوْصَفَ تَارَۃً بِالصِّدْقِ وَتَارَۃً بِالْکَذِبِ عَلٰی نَظَرَیْنِ مُخْتَلِفَیْنِ بلکہ یا تو اسے مطلقاً غیر صدق کہا جائے گا اور یا پھر کبھی اس کا نام صدق رکھا جائے گا کیونکہ اس میں صدق کی ایک علامت موجود ہے اور کبھی اسے کذب کہا جائے گا۔کیونکہ کذب کی بھی ایک علامت اس میں موجود ہے۔(مفردات) صدق کے معنوں کے متعلق اقرب الموارد اور مفردات راغب کے بیانات میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صدق اور کذب کی حقیقت اور ماہیت اور اہل زبان کے محاورات اور استعمال کی رو سے ان کے مفہوم کے متعلق محققین ارباب لغت میں اختلاف ہے۔اکثر محققین کا (جیسا کہ علّامہ تفتازانی وغیرہ نے بیان کیا ہے) وہ خیال ہے جسے اقرب الموارد میں مقدم کیا گیا ہے۔اور بعض کے نزدیک متکلم کے اعتقاد اور ضمیر پر اس کا مدار اور انحصار ہے۔پس جو بات متکلم کے ضمیر کے مطابق ہو وہ صدق ہو گی خواہ واقع میں صحیح ہو یا غلط اور جو بات متکلم کے نزدیک خلاف واقع ہو اور اس نے اسے غلط سمجھتے ہوئے کہا ہو وہ کذب متصور ہوگی خواہ فی الواقع صحیح ہی کیوں نہ ہو اور بعض محققین کے نزدیک صادق وہ خبر ہے جو ضمیر اور واقع ہر دو کے مطابق ہو۔اور کاذب وہ ہے جو ہر دو کے خلاف ہو۔اور جو بات واقع اور ضمیر متکلم میں سے ایک کے مطابق اور ایک کے خلاف ہو وہ ان کے نزدیک حقیقی معنوں میں نہ صادق ہوگی نہ کاذب۔بلکہ ان ہر دو کے درمیان درمیان اور ایک تیسری چیز ہوگی۔جسے مجازی طور پر صادق بھی کہا جاسکتا ہے اور کاذب بھی۔جیسا کہ جاحظ کا خیال ہے اور امام راغب نے مفردات میں اسی کو اختیار کیا ہے۔تفسیر۔حضرت یوسفؑ کا حقیقت حال کے اظہار میں پہل نہ کرنا خدا تعالیٰ کے برگزیدوں کی یہی شان ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مظلوم تھے آپ پہلے نہیں بولے اور عزیز کی بیوی کے فعل پر پردہ ہی ڈالا لیکن جب اس نے الزام لگایا تو پھر مجبوراً حقیقت حال کو ظاہر کیا کہ میرے دل میں تو کبھی خیال نہیں آیا ہاں یہ میرے ارادہ کے خلاف کام پر مجبور کرتی رہی ہے۔حضرت یوسفؑ کی بریّت کا سامان اللہ تعالیٰ نے خود ہی یوسف علیہ السلام کے لئے سامان پیدا کردیئے اور ایک شخص ان کے حق میں گواہی دینے والا کھڑا ہو گیا۔جس نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اگر یوسف بدارادہ کرتا تو اس کا کرتہ آگے کی طرف سے پھٹنے کا زیادہ امکان تھا لیکن پیچھے سے کرتے کا پھٹنا تو صاف بتاتا ہے کہ وہ بے چارہ بھاگ رہا تھا اور یہ عورت اسے روک رہی تھی۔عزیز کی بیوی کے خوف سے شاہد کا ادائے شہادت میں ابہام رکھنا چونکہ اس سے پہلے کرتے کے پھٹنے کا کوئی ذکر نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گواہ نے خود ہی کرتہ پھٹا ہوا دیکھا ہے اور جب اس نے خود دیکھا تھا