تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 424

یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے عورتیں مردوں کو کہتی رہتی ہیں کہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں اور مرد عورتوں کو کہتے رہتے ہیں کہ عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں اس کو ایک قاعدہ اور کلی صداقت قرار دینا محض نادانی اور ناواقفیت کی علامت ہے۔کہنے والے کی مراد اس سے زیادہ نہیں ہوتی کہ مخاطب یا اس کے ساتھی فعل زیربحث میں غلطی پر ہیں اور ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ تمام افراد ایسے ہیں اور اگر یہ مراد ہو تو یقیناً وہ غلطی پر سمجھا جائے گا جس جنس نے مریم ، ؑ خدیجہؓ ،عائشہؓ اور ایسی ہی اور بہت سی عورتیں پیدا کی ہیں اس کی نسبت ایک قاعدہ کے طور پر ایسا کلام کہنا خود اپنی پردہ دری کرنا ہے۔يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ یوسف! تو اس (عورت کی شرارت) سے چشم پوشی کرا ور( اے عورت) اپنے قصور کی بخشش طلب کر۔كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَؒ۰۰۳۰ یقیناً تو ظالموں میں سے ہے۔حلّ لُغَات۔اَعْرَضَ اَعْرَضَ عَنْہُ اَضْرَبَ وَصَدَّ۔اس سے رخ ہٹا لیا۔اور اس کی طرف سے ہٹ کر دوسری طرف توجہ کرلی وَحَقِیْقَتُہٗ جَعَلُ الْہَمْزَۃِ لِلْصَّیْرُوْرَۃِ اَیْ اَخَذَتُ عُرْضًا اَیْ جَانِبًا غَیْرَالْجَانِبِ الَّذِیْ ھُوَ فِیْہِ۔اور اس کے یہ معنے باب افعال کی خاصیّت صیرورت کے ماتحت پیدا ہوئے ہیں۔یعنی جس طرف دوسرا شخص ہے اسے چھوڑ کر کسی اور طرف رخ کرلیا اور دوسری جانب کو اختیار کر لیا۔(اقرب) پس اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا کے یہ معنے ہوئے کہ اس بات سے چشم پوشی کر اور اسے خاطر میں نہ لا۔تفسیر۔عزیز نے اپنی بیوی کی بات پر اعتبار نہیں کیا تھا یہ بھی عزیز کا کلام ہے۔وہ ایک طرف تو اپنی بیوی کو نصیحت کرتا ہے اور دوسری طرف یوسف علیہ السلام کو پردہ پوشی کے لئے کہتا ہے۔یہاں بھی بائبل اور قرآن کریم میں اختلاف ہے۔بائبل کی شہادت کہ عزیز کو حضرت یوسف کی براءت کا یقین تھا بائبل کہتی ہے کہ اس نے بیوی کی بات پر اعتبار کرلیا اور یوسف علیہ السلام کو مجرم قرار دیا اور اس پر ناراض ہوا(پیدائش باب ۳۹ آیت ۱۹۔۲۰)۔مگر بائبل ہی کے دوسرے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا بیان سچا ہے اور بائبل کا غلط ہے۔چنانچہ کتاب پیدائش باب۳۹ میں لکھا ہے۔