تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 35
سے ہمارے اعمال کے اچھے یا برے ہونے کا کوئی امتحان ہوسکتا ہے یا اس بیان سے ہم کسی قسم کا کوئی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔بُطلان خَلقِ عرش عقلاً عقلاً بھی یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ عرش کوئی مخلوق چیز ہو کیونکہ یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ دنیا کی پیدائش کے بعد خدا تعالیٰ کو کسی تخت کی ضرورت پیش آگئی۔جو خدا ہمیشہ سے بغیر تخت کے حکومت کرسکتا تھا وہ آیندہ بھی بغیر تخت کے حکومت کرسکتا تھا اگر اظہار شان مراد ہو تو اظہار شان تو نظر آنے والی چیز سے ہوسکتی ہے جس کو انسان دیکھتا ہی نہیں نہ اس کی علامت ہی کو دیکھتا ہے اس سے اظہار شان ہو ہی نہیں سکتا۔عرش سے مراد صفات تنزیہیہ ہونے کا ایک اور ثبوت اس امر کا ثبوت کہ عرش سے مراد صفات تنزیہیہ ہیں یہ آیت بھی ہے کہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ (المومنون:۱۱۷ ) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش کریم کو توحید باری کے ثابت کرنے میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ توحید کا اصلی اور حقیقی ثبوت اللہ تعالیٰ کی صفات تنزیہیہ ہی ہیں کیونکہ صفات تشبیہیہ میں مخلوق شریک ہوجاتی ہے۔اور ایک کمزور عقل والے انسان کے لئے بہت سے افہام و تفہیم کی ضرورت پیش آتی ہے۔اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا اسی کی طرف تم سب کولوٹ کر جانا ہے(یہ) اللہ (تعالیٰ) کا وعدہ ہے (جو) پورا ہو کر رہنے والا (ہے) الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وہ یقیناً مخلوق کو پیدا کر تاہےپھر اسے لوٹاتا ہے تاکہ جو لوگ ایمان لائےاور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) کام بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّ کئے انہیں اجرمیں کامل حصہ دے۔اور جن لوگوں نے کفر( اختیار) کیا ان کے لئے ایک تو پینے کی ایک چیز عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۰۰۵ یعنی کھولتا ہوا پانی ہوگااور( دوسرے) ایک دردنا ک عذاب ہوگا کیونکہ وہ کفر کرتے( چلے جاتے)تھے۔حلّ لُغات۔مَرْجِعٌ مَرْجِعٌ رَجَعَ سے نکلا ہے اور اس کا مصدر ہے اور اس کے معنی لوٹنے کے ہیں۔