تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 34

رَبُّ العَرش اور ذُو العَرش کے مفہوم میں فرق رہا یہ سوال کہ رب کا لفظ ذو یا صاحب کی جگہ کیوں استعمال کیا ہے سو اس میں بھی ایک حکمت ہے۔اور وہ یہ کہ بعض نادان فلسفی اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ علت العلل ہے۔اس کی صفات اپنے طور پر اضطراری رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے مجموعہ کی نسبت رب کا لفظ استعمال کرکے جو تصرف پر دلالت کرتا ہے بتایا ہے کہ اس کی صفات اضطراری نہیں ہیں۔بلکہ اس کے ارادے کے ماتحت ہیں جس رنگ میں اس کا کامل ارادہ اور بے عیب مشیت چاہتی ہے ان کا اظہار ہوتا ہے۔پس اس لفظ کے استعمال سے اس نے ایک بہت بڑے اعتراض کا رد کر دیا ہے اور اسلامی عقیدہ کو ظاہر کر دیا ہے۔کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ سے بھی خلق عرش ثابت نہیں ہوتا تیسری آیت جس سے استدلال کیا جاتا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (ہود:۸) یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔اور اس کا عرش پانی پر ہے تاکہ وہ یہ امر ظاہر کرے کہ تم میں سے کون عمل میں سب سے بہتر ہے۔چونکہ اس جگہ پانی پر عرش بتایا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ عرش مخلوق ہے۔اس جگہ پانی سے مراد حقیقی پانی نہیں ہو سکتا مگر یاد رکھنا چاہیے کہ پانی سے مراد اس جگہ پانی نہیں ہے کیونکہ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے پہلے عرش کا پانی پر ہونا درست نہیں۔اس لئے کہ پانی تو سمٰوٰت وارض کا ایک جزو ہے۔اور ان کی پیدائش کے بعد کی شئی ہے۔اور اگر خَلَقَ السَّمٰوٰتِ کے بعد سمجھا جائے کہ مادی طور پر عرش پانی پر ہے تو اس کا بھی کوئی مطلب نہیں معلوم دیتا۔ہمیں عرش پانی پرنہ نظر آتا ہے نہ اس کی کوئی علامت نظر آتی ہے۔حالانکہ حکیم ہستی کا ہر کلام حکمت پر مشتمل ہوتا ہے اور جس چیز کا نہ ہم سے کوئی تعلق ہے اور نہ اس سے ہمیں کوئی واسطہ ہے اس کے ذکر سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔اس کے بیان سے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بھی کوئی اظہار نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کی حقیقت سے ہمیں بے خبر رکھا گیا ہے۔پس نہ پانی سے مراد یہاں پانی ہے اور نہ عرش سے مراد کوئی مخلوق شئے۔بلکہ پانی سے مراد الہامی زبان کے مطابق کلام الٰہی ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عرش کلام الٰہی پر رکھا ہوا ہے۔یعنی اس کی عظمت شان کو انسان نہیں سمجھ سکتا۔مگر اس کی صفات تنزیہیہ جب کلام الٰہی کے ذریعہ سے تشبیہی رنگ اختیار کرتی ہیں تب انسان اس کی شان کا ایک اندازہ لگا سکتا ہے۔اور اسی وجہ سے اس کے بعد فرمایا کہ یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ تاہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔الہام کے نزول اور صفات تشبیہیہ کا تو تعلق انسان کے اعمال سے ہے۔لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ ایک نظر نہ آنے والا تخت اگر پانی پر رکھا ہوا ہو تو اس