تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 418

تجھے اس بلا سے بچا کر ترقی دے گا اور ایک دن تیرے بھائی تیرے سامنے پیش ہوں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ایسے عظیم الشان کام کے لئے تیار کررہا ہو اسے اللہ تعالیٰ ایک مشرکہ کے سامنے شرمندہ نہیں کرسکتا تھا۔کَذَالِکَ کا مُشَارٌّ اِلَیْہ اور صَرْفُ السُّوْءِ سے مراد كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ سے یہ مراد ہے کہ ہم نے اسے براہین دکھائے ہی اس لئے تھے کہ اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں۔پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس غرض سے یہ نشانات دکھائے تھے تو کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف نتیجہ نکلتا۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ یہ واقعہ اس لئے ظاہر ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ یوسفؑ کو اس عورت کی بدصحبت سے نجات دلائے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بد لوگوں میں رہ کر انسان کے خیالات اور اس کے دماغ پر بُرا اثر پڑتا ہے اگر اس طرح عزیز کی بیوی اپنے بدارادہ کا اظہار نہ کرتی تو اس کی اور اس کی ہم جولیوں کی صحبت میں حضرت یوسف علیہ السلام کو رہنا پڑتا۔جن کے اخلاق قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نہایت گندے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے پسند نہ فرمایا کہ آپ ان کی صحبت میں رہیں اور اس کے بدارادوں کو پوری طرح اور جلد اللہ تعالیٰ نے ظاہر کرادیا اور اس طرح انہیں ان سے جدا کرکے قیدخانہ میں بھجوا دیا جہاں علیحدگی میں عبادت الٰہی کا خاص موقع ان کو مل گیا۔گیارھویں مشابہت آنحضرتؐ کوبھی پھسلانے کی کوششیں کی گئیں اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام سے مشابہت ہے۔آپؐ کے دشمنوں نے بھی آپ کو لالچ دے کر دین سے پھرانا چاہا تھا۔چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کفار کا ایک وفد آیا اور انہوں نے آپ سے کہا کہ اگر آپ نے یہ دعویٰ روپیہ کے لئے کیا ہے تو ہم اس قدر روپیہ جمع کردیتے ہیں کہ آپ سب سے زیادہ مالدار ہو جائیں۔اور اگر عزت کے لئے کیا ہے تو ہم آپ کو اپنا سردار بنالیتے ہیں۔اور اگر عورت کی آپ کو خواہش ہو تو سب سے حسین عورت آپ کی خدمت میں پیش کردیتے ہیں۔مگر آپ یہ وعظ چھوڑ دیں۔اس پر آپؐ نے جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لاکھڑا کرو تب بھی میں تمہاری بات نہیں مان سکتا۔قرآن کریم میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے اور اس آیت سے ملتے جلتے الفاظ میں ہے۔فرماتا ہے وَ اِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ۠ عَنِ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا۔وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَيْـًٔا قَلِيْلًا (بنی اسرائیل :۷۴) اور قریب تھا کہ یہ لوگ تجھے ابتلاؤں میں ڈال دیں بوجہ اس کلام کے جو ہم نے تیری طرف بطور وحی نازل کیا ہے تاکہ تو اس کلام کے سوا کوئی اور کلام اپنے پاس سے بناکر پیش کردے اس صورت میں یہ لوگ ضرور