تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 419

تجھے اپنا دوست بنالیتے۔اور اگر ہم تیرے دل کو کلام الٰہی سے مضبوط نہ کردیتے تو اس صورت میں قریب ہوتا کہ تو ان کی طرف کسی قدر جھک جاتا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کرتے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ الہام الٰہی نے آپؐ کا دل مضبوط کر چھوڑا تھا۔آنحضرت ؐپر بھی بحوالہ قرآن کریم پھسلنے کا الزام لگایا گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام سے مزید مشابہت یہ ہے کہ جس طرح بعض لوگوں نے حضرت یوسفؑ کے متعلق قرآن کریم کی آیات کے یہ معنے کئے ہیں کہ وہ کچھ جھک گئے تھے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہ معنے کئے ہیں کہ آپؐ بھی کچھ جھک گئے تھے حالانکہ قرآن کریم دونوں جگہ اس کے خلاف مضمون بیان کرتا ہے۔وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَيَا سَيِّدَهَا اور وہ (دونوں) دروازہ کی طرف دوڑے اور اس (کشمکش میں اس عورت) نے اس کے کرتے کو پیچھے سے پھاڑ دیا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اور(جب وہ دروازہ تک پہنچے تو) انہوں نے اس (عورت) کے خاوند کو دروازہ کے پاس (کھڑا) پایا (جس اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۲۶ پر) اس (عورت)نے (اپنے خاوند سے )کہا جو( شخص) آپ کے اہل سے بدی (کرنا) چاہے اس کی سزا سواء اس کے (کوئی) نہیں (ہونی چاہیے )کہ اسے قیدکردیا جائے۔یا (اسے) کوئی اور دردناک عذاب (دیا جائے)۔حلّ لُغَات۔اِسْتِبَاقٌ اِسْتَبَقَاتَسَابَقَا یعنی اِسْتَبَقَا کے وہی معنے ہیں جو تَسَابَقَا کے ہیں۔تَسَابَقَا۔سَبَقَ اَحَدُھُمَا الاٰخَرَ اَوْاَرَادَ اَنْ یَسْبِقَہٗ۔اور تَسَابَقَا کے معنے ہیں وہ دونوں مقابلہ کے طور پر دوڑے جن میں سے ایک آگے نکل گیا۔یا یہ کہ ہر ایک نے دوسرے سے آگے بڑھنا چاہا۔الصِّرَاطَ جَاوَزَاہُ وَتَرَکَاہُ حَتّٰی ضَلَّا۔اور جب اس کے بعد مفعول مذکور ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں وہ اس سے آگے نکل گئے وَ اَمَّاقَوْلُہٗ وَاسْتَبَقا الْبَابَ فَبِتَقْدِیْرِ الْجَارِ۔اَیْ تَسَابَقَا اِلَیْہِ اَوْ عَلٰی تَضْمِیْنِ الْفِعْلِ مَعْنَی الاِبْتِدَارِ اَیْ اِبْتَدَرَا الْبَابَ۔لیکن اس آیت میں یہ لفظ ان معنوں میں نہیں آیا بلکہ یا تو اس کے مفعول سے حرفِ الیٰ