تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 417

اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص کی حالت کے مطابق اس کی طرف ارادہ منسوب کیا جاسکتا ہے۔دونوں کی اندرونی حالت کو پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے۔عورت کی اندرونی حالت یہ بتائی ہے کہ وہ بدی کا ارادہ رکھتی تھی اور یوسف علیہ السلام کی حالت یہ بتائی ہے کہ وہ اسے ظلم کے بدانجام سے ڈراتے تھے۔پس اس جگہ دونوں کے ارادوں سے یہی مراد لی جاسکتی ہے کہ عزیز کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بدی کی راہ پر لگانا چاہا اور حضرت یوسف نے اسے نیکی کی راہ پر لگانا چاہا۔مگر دونوں اپنے مقصد کو پورا نہ کرسکے نہ یوسف علیہ السلام نے عزیز کی بیوی کی بات مانی اور نہ اس نے یوسف علیہ السلام کی بات مانی۔لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ الگ جملہ ہے باقی رہا اللہ تعالیٰ کا قول لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ سو یہ ھَمَّ بِھَا کے ساتھ نہیں ہے بلکہ الگ قول ہےاور اس کی جزاء محذوف ہے جیسا کہ قرآن کریم میں متعدد جگہ جزا محذوف کر دی گئی ہے۔جیسے لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيْمٌ (النور:۱۱ ) میں اور لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (القصص :۴۸) میں محذوف ہے اور اس حصہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے براہین نہ دیکھے ہوئے ہوتے تب ہوسکتا تھا کہ وہ اس ارادہ کے سوا کوئی اور ارادہ کرتے مثلاً اسے نیکی کی طرف نہ بلاتے خاموش ہی رہتے لیکن جبکہ وہ براہین دیکھ چکے تھے تو پھر اس کے سوا اور وہ کرہی کیا سکتے تھے۔ہاں یہ آگے اس عورت کی بدقسمتی تھی کہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی نصیحت کو قبول نہ کیا اور ظلم پر مصر رہی۔برہان سے مراد بُرْھَان کے متعلق بھی مفسرین میں اختلاف ہے۔جن لوگوں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بدی کا ارادہ کیا تھا وہ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ عزیز کی بیوی اپنے بت پر پردہ ڈالنے لگی تھی کہ اس سے مجھے شرم آتی ہے۔اس پر یوسف علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے کہا کہ پھر میں کیوں نہ اپنے خدا سے شرماؤں جو دیکھتا اور جانتا ہے(درمنثور زیر آیت ھذا)۔بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے چھت پر یہ لکھا ہوا دیکھا تھا وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً (گویا قرآن کریم اس وقت نازل ہوچکا تھا) بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہتھیلی دیکھی جس پر یہ لکھا ہوا تھا اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ۔بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی صورت دیکھی کہ وہ انگلیاں دانتوں میں دبا رہے تھے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا ) مگر میں لکھ چکا ہوں کہ یہ معنے ہی غلط ہیں۔بُرْھَان سے مراد وہی آیات اور نشانات ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے ظاہر ہوچکے تھے۔مثلاً ان کی رؤیا آئندہ روحانی ترقیات کے متعلق پھر کنوئیں میں ڈالتے وقت کا الہام کہ اللہ تعالیٰ